خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 1

خطبات مسرور جلد 19 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرموده 01 / جنوری 2021ء بمطابق یکم صلح 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت علی کی شہادت: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر چل رہا ہے۔حضرت مصلح موعود حضرت علی کی شہادت کے پس منظر میں بیان فرماتے ہیں کہ " ابھی معاملات پوری طرح سمجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرو کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں ان کو قتل کر دو۔چنانچہ ان کے دلیر " یعنی بہادر لوگ جو تھے ، بعض جرآت والے لوگ جو تھے " یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علی کو ، ایک حضرت معاویہؓ کو اور ایک عمرو بن العاص کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔جو حضرت معاویہ کی طرف گیا تھا اس نے تو حضرت معاویہ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہ صرف معمولی زخمی ہوئے۔وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔جو عمرو بن العاص کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لیے نہ آئے تھے اور جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لیے آیا تھا " یعنی اس وقت حضرت عمرو بن عاص کی جگہ " اس نے اس کو مار دیا۔“ جو عمرو بن عاص پہ حملہ کرنے گیا تھا اور خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔جو شخص حضرت علی کو مارنے کے لیے نکلا تھا اس نے جبکہ آپ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطرناک طور پر زخمی ہوئے۔آپؐ پر حملہ کرتے وقت اس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علی امیر احق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے۔" حضرت علی کی شہادت کی پیشگوئی: (انوار خلافت، انوار العلوم جلد 3 صفحہ 202) حضرت علی کی شہادت کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔حضرت عبید اللہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا اے علی ! کیا تم جانتے ہو کہ اولین اور آخرین میں سے سب سے بد بخت شخص کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جانتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ پہلوں میں سب سے بدبخت شخص حضرت صالح کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا تھا اور اے علی !