خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 561 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 561

561 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 ساتھ ساتھ تعلقات اچھے ہو گئے۔اور جب میں وہاں گیا ہوں تو میرے استقبال کے لیے بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔پھر کہتے ہیں پہلے بھی میں نے امام جماعت احمدیہ کو سنا، اب دوبارہ سننا چاہتا تھا اور یہ سب باتیں جو کی ہیں ان سے میں بڑا متاثر ہوں کیونکہ اس سے لگتا ہے کہ جس طرح ایک گہر اباہمی رشتہ ہمارا آپس میں ہو گیا ہے اور آپ لوگ یعنی وہاں کی تعلیمی جماعت معاشرے کا ایک فعال حصہ ہیں اور اس جلسہ میں شامل ہو کے اس میں مزید مضبوطی پید اہوئی ہے۔اسی طرح روٹرڈم (Rotterdam) وہاں ایک شہر ہے۔وہاں سے آنے والے ایک مہمان ہر من میٹر (Herman Meeter) صاحب نے کہا کہ جلسہ پر آنے سے قبل میں گھبر ایا ہوا تھا کہ اس جلسے پر مسلمان اکٹھے ہو رہے ہیں، پتا نہیں کیا ہو گا ؟ مگر یہاں آکر بڑی حیرت ہوئی کہ امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور جو بات مجھے آپ کی تقریر کی اچھی لگی وہ یہ تھی کہ بڑی جرآت سے بات کی ہے۔اور پھر کہتے ہیں کہ پوپ عمومی رنگ میں امن کی بات کرتا ہے مگر اس نے احمدی دوست کو کہا کہ آپ کے خلیفہ نے بر ملاطور پر طاقت ور قوموں کو مخاطب کر کے بات کی ہے۔پھر ایک ڈچ میاں بیوی تھے جو اس میں شامل ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جلسے کا ماحول عجیب تھا۔سب لوگ خوش اخلاق تھے۔لگتا تھا ایک جنت نظیر ماحول ہے اور پھر میری تقریر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم پہ اس کا بڑا اثر ہوا اور مترجمین نے بھی بہت متاثر کیا۔بڑا اچھا ترجمہ ساتھ ساتھ ہو رہا تھا۔یہ مترجمین پہ بھی depend کرتا ہے کہ وہ کس طرح بیان کرتے ہیں اس لیے ہمارے ترجمہ کے شعبہ کو مختلف ملکوں میں بھی کوشش یہ کرنی چاہیے، ایم۔ٹی۔اے میں تو کرتے ہی ہیں کہ جب بھی وہاں فنکشن اور جلسے ہوں تو ترجمے صحیح رنگ میں ہونے چاہئیں۔ایک مہمان ڈینی بار کنک (Dini Harkink) صاحب اس میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ میرا بیک گراؤنڈ ہے۔چار سال قبل میں نے ایک ادارے میں ڈچ زبان پڑھانی شروع کی۔یہاں میری ملاقات ایک پاکستانی فیملی سے ہوئی اور وہ زبان سیکھنے آیا کرتے تھے۔تعلقات بڑھے اور انہیں میں نے ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا۔ہر ہفتے وہ میرے ساتھ کچھ وقت گزارتے اور ان کے بچے بھی مجھے ملتے۔ان بچوں سے بھی مجھے جماعت کے بارے میں علم ہوا اور پھر کہتے ہیں کہ اب میں یہاں آیا ہوں تو مجھے بڑا اچھا محسوس ہو رہا ہے اور آپ کے خلیفہ بھی امن اور باہمی ہم آہنگی کی باتیں کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں خود عیسائی ہوں اور دیکھ سکتا ہوں کہ آپ کی جماعت صرف احمدیوں سے ہی نہیں بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے سے اچھا برتاؤ کرتی ہے۔خاص کر ایک مسلمان رہنما سے یہ باتیں سننا، اس نے مجھے بڑا متاثر کیا کیونکہ آج کل اسلام کے بارے میں غلط تصورات موجو د ہیں۔پھر یہ کہتے ہیں کہ آپ نے دنیا میں پھیلی بدامنی کا ذکر کیا ہے اور امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ہم زمین پر ایک دوسرے سے مل کر رہتے ہیں اور ہمیں اس بارے میں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم سب مل کر امن کا قیام کریں۔پھر ہالینڈ میں المیرے(Almere) شہر میں انہوں نے وہاں دوسری مسجد بنائی ہے جو باقاعدہ مسجد ہے، اس کا افتتاح تھا۔وہاں المیرے چرچ کے چیئر مین حایو ویتزل صاحب آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ آپ کی جماعت کا پیغام امن کا پیغام ہے۔آپ کے خلیفہ نے امن اور مذہبی آزادی پر بہت ہی اچھی تقریر کی ہے۔المیرے میں پہلے کیتھولکس اور پروٹسٹنٹ مل کر امن کے ساتھ رہتے تھے۔اب امید ہے کہ احمدی بھی ہمارے ساتھ مل کر امن کے