خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 562 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 562

562 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 خطبات مسرور جلد 17 ساتھ رہیں گے۔انہوں نے کچھ تو چرچ کے حوالے سے بھی بات کرنی تھی ورنہ یہ ان کا وہاں کے لوگوں کا عموماً اظہار ہے کہ جو بھی احمدی وہاں رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے مل جل کر رہتے ہیں اور بڑے پر امن لوگ ہیں۔ایک عرب مہمان زکریا صاحب آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں مجھے بڑا اچھا پروگرام لگا اور آپ کے خلیفہ کی تقریر جو تھی وہ میں نے سنی۔پھر یہ کہنے لگے کہ اگر ہم امن چاہتے ہیں تو اس تقریر پر عمل کرنا چاہیے۔پھر کہتے ہیں کہ ایک عرب ہونے کے ناطے یہ بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پروگرام کے شروع میں تلاوتِ قرآن کریم کی گئی جو ان ملکوں میں رہتے ہوئے میرے لیے ایک عجیب بات تھی اور مجھے بڑی اچھی لگی۔پھر ایک لوکل مہمان تھیں " دینے کے " صاحبہ کہتی ہیں یہ فنکشن بڑا اچھا آرگنائز کیا تھا اور آپ کے خلیفہ کی تقریر میں نے سنی۔بڑی اچھی تھی۔عورتوں کے لیے بھی بڑا اچھا انتظام تھا اور پہلی دفعہ میں آئی ہوں اور اب میں دوبارہ مسجد آؤں گی اور جماعت کی عورتوں سے دوبارہ ملوں گی اور اپنا تعارف بڑھاؤں گی۔ایک اور لوکل مہمان تھے کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ میں مسلمانوں کے اس قسم کے پروگرام پر آرہا ہوں۔آنے سے پہلے میرے ہمسائے نے کہا تھا کہ بیچ کر رہنا۔مسلمانوں کا کچھ پتا نہیں کہ کب کیا کر دیں لیکن مجھے یہاں آکر بہت اچھا لگا۔آپ کی جماعت کے لوگوں نے ہمارا شروع سے لے کر آخر تک بہت خیال رکھا۔پھر ایک لوکل خاتون ہیں ایولین صاحبہ۔کہتی ہیں کہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا کو اسلام کی یہ تصویر نہیں دکھائی جاتی۔آپ کی جماعت کے لوگ بہت محنتی ہیں اور مہمان نواز ہیں۔میں نے آج اس مسجد کو پہلی بار دیکھا ہے مگر میں آئندہ بھی یہاں آنا چاہتی ہوں کیونکہ آپ کی مسجد میں مجھے سکون ملا ہے۔اس کے بعد پھر فرانس کا دورہ تھا۔ان کے اس طرح کے تاثرات بے شمار ہیں لیکن بہر حال چند ایک میں نے بیان کیے۔فرانس کا جو دورہ تھا وہاں جلسہ تھا اور وہاں بھی اسی طرح غیر احمدی، غیر مسلم مہمانوں کے ساتھ نشست تھی جس میں 75 کے قریب مہمان آئے ہوئے تھے وہاں ایک مہمان خاتون جو پیشے کے اعتبار سے انتظر اپولوجسٹ (Anthropologist) ہیں۔کہتی ہیں کہ جب خلیفہ نے یہ بات کی کہ وہ فرانس میں جو مختلف حملے ہوئے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں تو انہوں نے واضح کر دیا کہ اسلام کا ایسے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پھر کہتی ہیں کہ امام جماعت احمدیہ نے اسلام کی جو حقیقی تصویر پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان آسانی سے مغربی دنیا میں انٹیگریٹ (Integrate) ہو سکتے ہیں اور کہنے لگیں کہ جو کہتے ہیں کہ مغربی دنیا میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ، مسلمان وہاں مل کر نہیں رہ سکتے وہ غلط کہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو آج کی تقریر سننی چاہیے تھی۔پھر ایک غیر احمدی مرتضی صاحب تھے جن کا تعلق ایران سے تھا۔کہتے ہیں کہ انہیں آج پہلی دفعہ احمد یہ جماعت اور خلیفۃ المسیح کے سٹیٹس (Status) کا علم ہوا۔لوگ دنیا میں اسلام کے خلاف بہت پروپیگنڈا کرتے ہیں، آپ کے خلیفہ نے آج ان سب کا زبر دست جواب دیا ہے۔مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ ان کو تو اپنے عقیدے اور ایمان کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔ان لوگوں کو آپ کے خلیفہ سے اسلام سیکھنا چاہیے۔اور اصل