خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 560

خطبات مسرور جلد 17 560 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01نومبر 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 01/ نومبر 2019ء بمطابق 01/ نبوت 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے) یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گذشتہ دنوں میں یورپ کے بعض ممالک کے دورے پر گیا تھا جہاں دو ممالک ہالینڈ اور فرانس کے جلسہ سالانہ بھی تھے۔اس کے علاوہ مساجد کے افتتاح اور غیروں کے ساتھ دوسرے پروگرام بھی ہوتے رہے۔فرانس میں یونیسکو (UNESCO) کی عمارت میں تقریب ہوئی جس کی اجازت وہاں کی انتظامیہ نے دی تھی اور ان کی دعوت پر کی گئی تھی جس میں اسلامی تعلیمات بیان کرنے اور علمی اور سائنسی ترقی میں مسلمانوں کے کردار کو بیان کرنے کی بھی توفیق ملی۔یونیسکو (UNESCO) یو۔این (UN) کا ایک ادارہ ہے جو تعلیم ، سائنس اور کلچر کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔اس کے کاموں میں پریس کی آزادی، غربت کا خاتمہ اور ورثے کی حفاظت وغیرہ کے کام بھی ہیں۔بہر حال ان کے انھی کاموں کے حوالے سے اسلام کی تعلیم اور پہلے مسلمانوں کی اس بارے میں خدمات اور ان کا حصہ اور جماعت احمدیہ کے کردار کے بارے میں انہیں بتایا۔اسی طرح جرمنی میں برلن میں جو وہاں کا دار الحکومت ہے، وہاں سیاست دانوں اور پڑھے لکھے لوگوں کو اسلامی تعلیم اور یہ بات جو یورپین لوگوں کے دماغوں میں ہے اور جو تصور قائم ہو گیا ہے، خاص طور جرمنی اور بعض ممالک میں زیادہ ہے کہ اسلام یورپ کے کلچر اور سویلائزیشن (civilization) سے مطابقت نہیں رکھتا۔اس لیے اسلام کو نہ یہاں آنا چاہیے، نہ یہاں آسکتا ہے اور یہ بھی کہ اسلام یورپ کے لیے خطرہ ہے۔اس بارے میں اسلامی تعلیم کی روشنی میں بتایا اور وہاں بعض بڑے پڑھے لکھے لوگ، سیاست دان اور ڈپلومیٹس وغیرہ بھی تھے۔ان پر بڑا مثبت رد عمل ہوا۔انہوں نے اس کا اظہار کیا۔اسی طرح دوسری تقریبات میں بھی اسلامی تعلیم اور اسلام کا تعارف کروانے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھنے کا ہر جگہ موقع ملا۔اس وقت میں مختلف فنکشنوں پر بعض غیروں کے جو تاثرات تھے وہ مختصر بیان کروں گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم سمجھنے اور اپنے تحفظات دور کرنے کا ہر جگہ موقع ملا۔ہالینڈ میں جلسے کے دوسرے دن ڈچ مہمانوں سے بھی مخاطب ہونے کا موقع ملا۔125 غیر مسلم ڈچ مہمان وہاں شامل ہوئے۔نن سپیت (Nunspeet) جو اس وقت ہمارا مرکز ہے وہاں کے کونسلر نے اپنے تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصہ پہلے میں یہاں آنے کو یعنی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے کو پسند بھی نہیں کرتا تھا مگر وقت کے