خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد 17 554 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 اگر یہ کہو،لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بڑ اپکارتے ہیں تو جواب نہیں دیتا۔آپ فرماتے ہیں دیکھو تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دُور ہے پکارتے ہو اور ایک تو فاصلے کی دوری ہے اور دوسرے تمہارے اپنے کانوں میں کوئی نقص بھی ہے ، کان بھی تھوڑے سے خراب ہیں سن بھی نہیں سکتے۔وہ شخص جس کو تم دور سے پکار رہے ہو وہ تمہاری آواز سن کر تمہیں جو اب دے گا مگر جب وہ دور سے جواب دے گا تو تم باعث بہرہ پن کے سن نہیں سکو گے۔کیونکہ کانوں میں تمہارے نقص ہے اس لیے دور سے جو اب سن نہیں سکو گے۔پس فرمایا کہ جوں جوں تمہارے درمیانی پر دے اور حجاب اور دوری دور ہوتی جاوے گی تو تم ضرور آواز سنو گے۔جتنا کوشش کر کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب آتے جاؤ گے تو اس کی آواز بھی سن لو گے۔فرمایا کہ جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہم کلام ہو تا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہو جاتی کہ اس کی ہستی ہے بھی۔پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبر دست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کو سن لیں یا دیدار یا گفتار یا دیکھ لیایا بات کرلی۔پس آج کل کا گفتار قائم مقام ہے دیدار کے۔ہاں جب تک خدا کے اور اس کے سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سن نہیں سکتے۔جب در میانی پر دہ اٹھ جاوے گا تو اس کی آواز سنائی دے گی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 226-227) پس یہ درمیانی پر دے اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو میری طرف سنجیدگی سے آئے گا، میری ذات کی حقیقت کو سمجھ کر میری طرف بڑھے گا تو میں بھی اس کی طرف آؤں گا۔اسی بات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ میری طرف ایک قدم آتا ہے تو میں اس کی طرف دو قدم آتا ہوں۔بندہ چل کے آتا ہے تو میں دوڑ کے آتا ہوں۔(صحيح البخارى كتاب التوحيد باب ذكر النبي الله و روايته عن ربه حديث 7536) پس اگر نقص ہے تو ہمارے میں۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔اس کے راستے تلاش کرنے اس سے ملاقات کرنے کے لیے بھی اسی کی مدد کی ضرورت ہے۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا دعوی کرتے ہیں ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صرف ایک بات پر عمل کر لینا کہ مسجدیں بناؤ تا کہ اسلام کا تعارف ہو ، کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے عملی کوششوں کی بھی ضرورت ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی مدد کی بھی ضرورت ہے اور جب کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ملے گی تو پھر ہی کامیابی ہوگی۔چنانچہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یادر کھو کہ بیعت کے وقت تو بہ کے اقرار میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔اگر ساتھ اس کے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی شرط لگالے تو ترقی ہوتی ہے۔بیعت کرلی برکت پیدا ہو گئی۔ساتھ یہ شرط ہو کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو پھر ترقی بھی ہوتی جائے گی مگر یہ مقدم رکھنا تمہارے اختیار میں نہیں بلکہ امداد الہی کی سخت ضرورت ہے۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد چاہیے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) کم