خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 555

خطبات مسرور جلد 17 555 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہماری راہ میں انجام کار رہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں۔فرمایا کہ جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کا بدوں کوشش اور آبپاشی کے بے برکت رہتا ہے، ایک کسان بیج بوتا ہے یا انسان لگاتا ہے اگر اس کو اس کی پوری طرح محنت سے پالا نہ جائے، اسے پانی نہ لگایا جائے تو وہ بے برکت رہتا ہے۔اس میں وہ برکت نہیں پڑتی۔اگتا ہی نہیں یا اُگے گا تو بہت کمزور ہو گا بلکہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے۔اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے۔فرمایا کہ اس اقرار کو، دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا ہماری مدد کر تو فضل الہی وارد نہیں ہو گا۔فرمایا کہ بغیر امداد الہی کے تبدیلی ناممکن ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر انسان میں تبدیلی آجائے۔اس لیے اس کی مدد مانگنے کے لیے، اس کا فضل مانگنے کے لیے دعا بہر حال کرنی پڑے گی۔فرمایا کہ چور، بد معاش، زانی وغیرہ جرائم پیشہ لوگ ہر وقت ایسے نہیں رہتے بلکہ بعض وقت ان کو ضرور پشیمانی ہوتی ہے۔یہی حال ہر بد کار کا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان میں نیکی کا خیال ضرور ہے۔پس اس خیال کے واسطے اس کو امداد الہی کی بہت ضرورت ہے۔اسی لیے پنجوقتہ نماز میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا جس میں إِيَّاكَ نَعْبُدُ اور پھر ايَّاكَ نَسْتَعِین یعنی عبادت بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔یعنی ہر نیک کام میں قوی، تدابیر ، جد وجہد سے کام لیں یعنی ہر نیک کام کرنے کے لیے جو انسانی طاقتیں اللہ تعالیٰ نے دی ہوئی ہیں جو تدبیریں ہو سکتی ہیں ، جو کوشش ہو سکتی ہے وہ کرنی ہے۔یہ اشارہ ہے نعبد کی طرف، عبادت کرنے کی طرف۔کیونکہ جو شخص نری دعا کرتا ہے اور جدوجہد نہیں کر تاوہ بہر ہ یاب نہیں ہو تا۔صرف دعا سے کام نہیں بنتا کوشش بھی کرنی پڑے گی وہ کامیاب ہی نہیں ہو سکتا۔جیسے کسان بیج بو کر اگر جد وجہد نہ کرے تو پھل کا امیدوار کیسے بن سکتا ہے اور یہ سنت اللہ ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔یہ اگر بیج بو کر صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔اگر اس کو پانی نہیں لگاتے ، اس کی گوڈی نہیں کرتے، اس کی نگہداشت نہیں کرتے تو انسان محروم رہے گا۔مثلاً دو کسان ہیں ایک تو سخت محنت اور قلبہ رانی کرتا ہے، گوڈی کرتا ہے، محنت کرتا ہے تو یہ ضرور کامیاب ہو گا۔دوسر ا کسان محنت نہیں کرتا یا کم کرتا ہے اس کی پیداوار ہمیشہ ناقص رہے گی یعنی بالکل بہت کم ہو گی جس سے وہ شاید سرکاری محصول بھی ادانہ کر سکے اور وہ ہمیشہ مفلس رہے گا۔اسی طرح دینی کام بھی ہیں۔انہی میں منافق، انہی میں سکے ، انہی میں صالح، انہی میں ابدال، قطب، غوث بنتے ہیں۔لوگ ایک طرح کے ہی ہیں لیکن ان میں منافق لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں ، نکے ، کام نہیں کرنے والے بھی ہیں لیکن انہی میں صالح لوگ بھی ہیں جو ابدال تک پہنچ جاتے ہیں، قطب بن جاتے ہیں، غوث بنتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک درجہ پاتے ہیں اور بعض چالیس چالیس برس سے نماز پڑھتے ہیں مگر ہنوز روز اول ہی ہے ، کوئی ترقی نہیں اور کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔تیس روزوں سے کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتے۔رمضان کے تیس روزے بھی رکھ لیے تب بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔رمضان کے بعد پھر وہیں آجاتے ہیں۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بڑے متقی اور مدت کے نماز خواں ہیں مگر ہمیں امداد الہی نہیں ملتی۔دعوای تو متقی ہونے کا ہے اور بڑی نمازیں پڑھنے کا دعوی ہے لیکن ساتھ کہتے ہیں کہ امداد الہی نہیں ملتی۔اس کا سبب یہ ہے کہ