خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 553
خطبات مسرور جلد 17 553 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2019 پوری کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لیے بھی کچھ طریقے اور اصول ہیں اور ان پر چلنا پڑے گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک طرف تو یہ فرمائے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ کہ تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں سنوں گا اور دوسری طرف بندہ پکار تارہے اور اللہ تعالیٰ سنے ہی نہ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نمازوں میں دعائیں اور درود ہیں۔یہ عربی زبان میں ہیں۔مگر تم پر یہ حرام نہیں کہ نمازوں میں اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگا کرو۔خدا کا حکم ہے کہ نماز وہ ہے جس میں تفرع ہو اور حضورِ قلب ہو۔تضرع پیدا کرو، دل کو نرم کرو۔دل میں خشیت پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں، اس سے مانگ رہا ہوں۔ایسے ہی لوگوں کے گناہ دور ہوتے ہیں۔فرمایا کہ ایسے ہی لوگوں کے گناہ دُور ہوتے ہیں جن میں تضرع ہوتی ہے۔چنانچہ فرمایان الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود: 115) یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں۔یہاں حسنات کے معنی نماز کے ہیں اور حضور اور تفرع اپنی زبان میں مانگنے سے حاصل ہوتا ہے یعنی جو تفترع پیدا ہوتا ہے، انسان کا دل چھلتا ہے وہ اپنی زبان میں انسان مانگے تو تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب سمجھ بھی آرہی ہو کہ کیا مانگ رہا ہے۔پس فرمایا کہ اپنی زبان میں دعا کیا کرو۔پھر آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو دعائیں سکھائی ہیں وہ دعائیں بھی بڑی ضروری ہیں، کرنی چاہیں اور ان میں سے بہترین دعا فاتحہ ہے کیونکہ وہ جامع دعا ہے۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دعا سکھائی ہے اهْدِنَا الخراط الْمُسْتَقِيمَ اس کے معنے بڑے وسیع ہیں اور اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ جب زمیندار کو زمینداری کا ڈھب آجاوے تو وہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاوے گا۔جو ز میندار ہے ایک اس کو کھیتی باڑی کرنے کا طریقہ آجائے، زمیندارہ کرنا آ جائے ، ہل چلانا آ جائے، بیج پھینکنا آ جائے، یہ پتا ہو کہ کس وقت کھاد دینی ہے، کس وقت پانی دینا ہے ، کس وقت سپرے کرنا ہے تو فرمایا کہ جب اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے تو وہ صراطِ مستقیم پر پہنچ گیا، اپنے اس فیلڈ کے صراط مستقیم پر ، زمینداری کے صراط مستقیم پر۔اسی طرح تم خدا کے ملنے کی صراطِ مستقیم تلاش کرو اور دعا کرو کہ یا الہی میں تیر اگناہ گار بندہ ہوں اور افتادہ ہوں میری رہنمائی کر۔ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے ، وہی دینے والا ہے۔بہت نیک وہی ہے جو بہت دعا کرتا ہے کیونکہ اگر کسی بخیل کے دروازے پر ، بہت کنجوس آدمی ہو اس کے دروازے پر بھی سوالی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اس کو بھی شرم آجاوے گی۔پھر خدا تعالیٰ سے مانگنے والا اور وہ خدا جو بے مثل کریم ہے ، ایسا کریم ہے جس کی مثال کوئی نہیں وہاں سے کیوں نہ پائے۔پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔نماز کا دوسرا نام ہی دعا ہے جیسے فرما يا أُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن: 61) کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا۔پھر فرما یاوَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔(البقرة: 187) جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے پس میں بہت ہی قریب ہوں۔میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ اس کی ذات پر، اللہ تعالیٰ کی ذات پر شک کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو۔میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔