خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد 16 91 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 ہوئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی من و عن پوری ہوئی۔" تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 287-286۔مطبوعہ قادیان 2007ء) پھر " ہندوستان کے ایک غیر مسلم سکھ صحافی ارجن سنگھ ایڈیٹر "رنگین" امر تسر نے تسلیم کیا۔" کہتے ہیں " مرزا صاحب نے 1901ء میں جبکہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے یہ پیشگوئی کی تھی کہ بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا ڈور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي" لکھتے ہیں کہ " یہ پیشگوئی بیشک حیرت پیدا کرنے والی ہے۔1901ء میں نہ میرزا بشیر الدین محمود کوئی بڑے عالم و فاضل تھے اور نہ آپ کی سیاسی قابلیت کے جو ہر کھلے تھے۔اس وقت یہ کہنا کہ تیر ا ایک بیٹا ایسا اور ایسا ہو گا، ضرور کسی روحانی قوت کی دلیل ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ میرزا صاحب نے ایک دعوی کر کے گڑی کی بنیاد رکھ دی تھی اس لئے آپ کو یہ گمان ہو سکتا تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کا سہر امیرے لڑکے کے سر پر رہے گا۔لیکن یہ خیال باطل ہے۔اس لئے کہ میرزا صاحب نے خلافت کی یہ شرط نہیں رکھی کہ وہ ضرور مرزا صاحب کے خاندان سے اور آپ کی اولاد سے ہی ہو۔چنانچہ خلیفہ اول ایک ایسے صاحب ہوئے جن کا میر زاصاحب کے خاندان سے کوئی واسطہ نہ تھا۔پھر بہت ممکن تھا کہ مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اول کے بعد بھی کوئی اور صاحب خلیفہ ہو جاتے۔چنانچہ اس موقع پر بھی مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور خلافت کے لئے امیدوار تھے۔لیکن اکثریت نے میرزا بشیر الدین صاحب کا ساتھ دیا اور اس طرح آپ خلیفہ مقرر ہو گئے۔" لکھتے ہیں کہ "اب سوال یہ ہے کہ اگر بڑے میرزا صاحب کے اندر کوئی روحانی قوت کام نہ کر رہی تھی تو پھر آخر آپ یہ کس طرح جان گئے کہ میرا ایک بیٹا ایسا ہو گا۔جس وقت مرزا صاحب نے مندرجہ بالا اعلان کیا ہے اس وقت آپ کے تین بیٹے تھے۔آپ تینوں کے لئے دعائیں بھی کرتے تھے لیکن پیشگوئی صرف ایک کے متعلق ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک فی الواقع ایسا ثابت ہوا ہے کہ اس نے ایک عالم میں تغیر پیدا کر دیا ہے۔" تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 287-288 مطبوعہ قادیان 2007ء) اس وقت کے جو جماعتی حالات تھے اور اس وقت جو دنیا کے موجود ذرائع جماعت کے پاس تھے وہ آج کی طرح نہیں تھے۔گو آج بھی ہمارے پاس ہر طرح کے وسائل نہیں لیکن پھر بھی ان حالات سے بہت بہتر ہیں۔لیکن ان حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے دنیا میں تقریباً 50 سے زائد ممالک میں احمدیت کا پودا لگا۔جماعتیں قائم ہوئیں۔اور تقریباً ہر براعظم میں جماعت قائم ہوئی۔یہ حضرت مصلح موعود کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کا پھیلنا اور آپ کی اولوالعزمی کا نتیجہ تھا۔پھر پسر موعود کی آمد کا مقصود یہ تھا کہ تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مر تبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔بر صغیر پاک و ہند کے مشہور مسلم لیڈر اور ایک شعلہ نواشاعر زمیندار رسالہ کے مولوی ظفر علی خان صاحب نے کھلے لفظوں