خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 90

خطبات مسرور جلد 16 90 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 وحی آپ کے حق میں بالکل سچی ہے۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔" الفضل قادیان جلد 20/55 نمبر 10 مورخہ 12 جنوری 1966ء صفحہ 5) 27 جولائی 1944ء کے الفضل میں مکرم محمد موہیل صاحب کی ایک خواب کا یوں ذکر ملتا ہے کہ " محمد موہیل صاحب احمدی نے کمال ڈیرہ سے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں اپنے ایک غیر احمدی رشتہ دار محمد اکرم صاحب کا حسب ذیل خواب تحریر کیا ہے۔یہ صاحب جو ابھی تک احمدی نہیں ہوئے لکھتے ہیں جب حضور 1936ء میں نوابشاہ میں تشریف فرما ہوئے۔اس سے ایک رات قبل میں نے دیکھا کہ نوابشاہ کے چکرہ (گول دائرے کا بازار ہے ) اسٹیشن کی طرف سے مغرب کی طرف ایک شخص شیر پر سوار ہو کر آرہا ہے۔جب میرے قریب آیا تو دیکھا کہ اس کے جسم مبارک پر قرآن مجید کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔میں نے آدمیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حضرت میرزا محمود احمد قادیانی ہے۔پھر میں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہے ؟ جواب دیا کہ دنیا میں سب سے بڑے ولی اللہ ہیں۔" (الفضل قادیان جلد 32 نمبر 174 مورخہ 27 جولائی 1944ء صفحہ 4) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کی صداقت کا اظہار اللہ تعالیٰ نے غیروں سے بھی کروایا۔چنانچہ ایک معزز غیر احمدی عالم مولوی سمیع اللہ خان صاحب فاروقی نے قیام پاکستان سے قبل اظہارِ حق ' کے عنوان سے ایک ٹریکٹ میں لکھا۔آپ کو (یعنی حضرت مسیح موعود کو ) اطلاع ملتی ہے کہ "میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے۔"لکھتے ہیں کہ " اس پیشگوئی کو پڑھو اور بار بار پڑھو اور پھر ایمان سے کہو کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت موجودہ خلیفہ ابھی بچے ہی تھے اور مرزا صاحب کی جانب سے انہیں خلیفہ مقرر کرانے کے لئے کسی قسم کی وصیت بھی نہ کی گئی تھی بلکہ خلافت کا انتخاب رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔چنانچہ اس وقت اکثریت نے حکیم نور الدین صاحب کو خلیفہ تسلیم کر لیا جس پر مخالفین نے محولہ صدر پیشگوئی کا مذاق بھی اڑایا۔" حضرت خلیفہ اول بنے تو پیشگوئی کا مذاق اڑایا کہ دیکھو کہتے تھے بیٹا ہو گا۔بیٹا تو بنا نہیں "لیکن حکیم صاحب کی وفات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ مقرر ہوئے۔" یہ غیر احمدی لکھ رہے ہیں۔احمدی نہیں ہیں۔" اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کے زمانہ میں احمدیت نے جس قدر ترقی کی وہ حیرت انگیز ہے۔خود مرزا صاحب کے وقت میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔خلیفہ نور الدین صاحب کے وقت میں بھی خاص ترقی نہ ہوئی تھی۔لیکن موجودہ خلیفہ کے وقت میں مرزائیت قریباً دنیا کے ہر خطہ تک پہنچ گئی اور حالات یہ بتلاتے ہیں کہ آئندہ مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد 1931ء کی نسبت دگنی سے بھی زیادہ ہو گی۔بحالیکہ اس عہد میں مخالفین کی جانب سے مرزائیت کے استیصال کے لئے جس قدر منظم کوششیں ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔"لکھتے ہیں کہ " الغرض آپ کی ذریت میں سے ایک شخص پیشگوئی کے مطابق جماعت کے لئے قائم کیا گیا" پیشگوئی کے مطابق وہ جماعت کے لئے قائم کیا گیا اور اس کے ذریعہ جماعت کو حیرت انگیز ترقی