خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد 16 92 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 میں اعتراف کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو کہا کہ کان کھول کر سن لو۔تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے۔تمہارے پاس کیا دھرا ہے؟؟۔۔۔۔تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے اشارے پر اس کے پاؤں پر نچھاور کرنے کو تیار ہے۔۔۔۔۔۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔مختلف علوم کے ماہر ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 288 مطبوعہ قادیان 2007ء) پسر موعود سے متعلق وعدہ الہی تھا کہ وہ " اولو العزم " ہو گا۔نیز یہ کہ " وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔" چنانچہ ہندوستان کے نامور صوفی خواجہ حسن نظامی دہلوی۔۔۔۔۔نے آپ کی قلمی تصویر کھینچتے ہوئے حضرت مصلح موعود کے بارے میں لکھا ہے کہ " اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلی کجوانمردی کو ثابت کر دیا اور یہ بھی کہ مغل ذات کار فرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و فہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں۔یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں۔" ( تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 288 مطبوعہ قادیان 2007ء) پسر موعود کے متعلق ایک اہم خبر یہ دی گئی تھی کہ "وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔یہ پیشگوئی بھی مختلف رنگ میں پوری ہوتی رہی اور اس طرح بھی پوری ہوتی ہے کہ انسانی عقل کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔تحریک آزادی کشمیر اس پر شاہد ہے کیونکہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کا سہرا آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سر ہے اور یہ مشہور کمیٹی حضرت مصلح موعود کی تحریک اور ہندو پاکستان کے بڑے بڑے مسلم زعماء مثلاً سر ذوالفقار علی خان، ڈاکٹر سر محمد اقبال، خواجہ حسن نظامی دہلوی، سید حبیب مدیر اخبار سیاست وغیرہ کے مشورے سے 25 جولائی 1931ء کو شملہ میں قائم ہوئی۔اور اس کی صدارت خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو سونپی گئی۔آپ کی کامیاب قیادت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانانِ کشمیر جو مدتوں سے انسانیت کے ادنیٰ حقوق سے بھی محروم ہو کر غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ایک نہایت قلیل عرصہ میں آزادی کی فضا میں سانس لینے لگے۔ان کے سیاسی اور معاشی حقوق تسلیم کئے گئے۔ریاست میں پہلی دفعہ اسمبلی قائم ہوئی اور تقریر و تحریر کی آزادی کے ساتھ انہیں اس میں مناسب نمائندگی ملی۔جس پر مسلم پر یس نے حضرت مصلح موعودؓ کے شاندار کارناموں کا اقرار کرتے ہوئے آپ کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ جس زمانے میں کشمیر کی حالت نازک تھی اور اس زمانے میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔اس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی اور اُمت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 289 مطبوعہ قادیان 2007ء) مولانا محمد علی جوہر صاحب نے (یہ بہت بڑے سیاستدان بھی تھے۔عالم بھی تھے۔) اپنے اخبار ہمدرد 26 ستمبر 1927ء میں لکھا کہ " ناشکری ہو گی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی