خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 89
خطبات مسرور جلد 16 89 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب تک اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا آپ نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔اور جب آپ کو واضح طور پر اعلان کرنے کا اذن دیا گیا تب آپ نے اعلان کیا۔اُس وقت آپ نے یہ فرمایا کہ : " اس میں شبہ نہیں کہ اس موعود فرزند کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو علامات بیان فرمائی ہیں ان میں سے کئی ایک کے پورا ہونے کی وجہ سے ہماری جماعت کے بہت سے لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ پیشگوئی میرے ہی متعلق ہے مگر میں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے یہ حکم نہ دے کہ میں کوئی ایسا اعلان کروں، میں نہیں کروں گا۔آخر وہ دن آگیا جب خدا تعالیٰ نے میری زبان سے اس کا اعلان کرانا تھا۔" الفضل قادیان مصلح موعودؓ نمبر جلد 14/49 نمبر 40 مورخہ 19 فروری 1960ء صفحہ 7) پھر آپ نے اعلان کے وقت جلسہ ہوشیار پور میں فرمایا کہ "میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچانا ہے۔" الفضل قادیان جلد 12/47 نمبر 13 مورخہ 15 جنوری 1958ء صفحہ 4) پھر لاہور کے جلسہ میں آپ نے فرمایا : " میں اس واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افتراء کرنے والا اس کے عذاب سے بھی بچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اس شہر لاہور میں نمبر 13 ٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔اور میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعہ اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہو گی۔" (الفضل قادیان جلد 12/47 نمبر 13 مورخہ 15 جنوری 1958ء صفحہ4) مصلح موعودؓ کی اٹھاون نشانیاں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی مصلح موعود میں موعود بیٹے کی جو باون یا اٹھاون نشانیاں بتائی تھیں وہ مختلف ملتی ہیں۔بہر حال پچاس سے زائد نشانیاں ہیں اور آپ کی یہ خصوصیات اپنوں اور غیروں نے کس طرح حضرت مصلح موعودؓ میں دیکھیں ان کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت مصلح موعود کی وفات کے وقت دمشق کے حضرت سید ابو الفرج الحصنی بیان کرتے ہیں کہ : "حضرت امیر المومنین الخلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے ہمارے دلوں کو انتہائی تکلیف اور غم ہوا اور یہ وہ تکلیف ہے جس نے ہر احمدی پر المناک اثر کیا ہے۔جماعت دمشق کو بالخصوص انتہائی خزن و غم ہوا ہے کیونکہ جماعت دمشق حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا براہ راست لگایا ہو اپودا ہے جس کو آپ کے مبارک ہاتھوں نے ہی لگایا تھا اور اس کو آپ کی خاص توجہ اور روحانیت نے سیراب کیا تھا۔چنانچہ یہ پودا پھلا اور پھولا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق بیچ فرمایا تھا کہ " قو میں اس سے برکت پائیں گی۔"ہم نے آپ کی دعا کی برکت اور توجہ سے فیض الہی حاصل کیا۔"لکھتے ہیں کہ " مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں نے جب کبھی بھی حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دعا کی درخواست کی تو میں نے اس کی قبولیت کے آثار روحانی اور مادی لحاظ سے واضح طور پر محسوس کئے اور خدائی