خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 88
خطبات مسرور جلد 16 88 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 ایک بزرگ مکرم غلام حسین صاحب نمبر دار محله اراضی یعقوب شہر سیالکوٹ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو آپ کے مصلح موعود ہونے کے اعلان کے بعد لکھا کہ: "میرے پیارے پیشوا، ہادی ور ہنما حضرت خلیفتہ المسیح الثانی و مصلح موعود ایده الله بنصرہ العزیز۔۔۔۔۔اخبار الفضل 30 جنوری پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر تاہوں۔الحمد للہ کہ میری ا / رؤیا کو بھی خدا تعالیٰ نے سچا کر دکھایا ہے۔" لکھتے ہیں کہ " حضور کو معلوم ہو گا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کی زندگی میں خاکسار نے دفتر " الفضل " میں ہموجودگی شادی خان صاحب مرحوم سیالکوٹی حضور کو مبارکباد دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو رویا میں دکھلایا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کے بعد آپ خلیفہ ہوں گے اور کامیاب ہوں گے اور آپ پر وحی بھی نازل ہو گی۔یہ رویا میں نے حضرت خلیفہ المسیح اول کو بھی سنایا تھا اور حضور نے بہت ہی خوش ہو کر تصدیق کی تھی اور فرمایا تھا کہ اسی لئے اس کی سخت مخالفت شروع ہو گئی ہے۔سید حامد شاہ صاحب مرحوم کو بھی یہ رؤیاسنا یا تھا۔الحمد للہ کہ حضور نے خود بھی مصلح موعودؓ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔" کیونکہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ اعلان 1944ء میں کیا تھا۔کہتے ہیں کہ اور نہ مجھ کو تو حضرت خلیفتہ المسیح اول کی زندگی میں ہی آپ کے خلیفہ اللہ اور مصلح موعود ہونے کا حق الیقین ہو گیا تھا۔" (الفضل قادیان جلد 32 نمبر 44 مورخہ 20 فروری 1944ء صفحہ 19) اسی طرح ایک اور بزرگ مکرم صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی، حضرت مصلح موعود کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں۔( مصلح موعود کا جو اعلان ہوا تھا اس کے بعد یہ انہوں نے لکھا تھا) کہ "میں اپنا ایک خواب بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔یہ رویا میں نے تیس یا چوبیس سال پہلے دیکھا تھا۔ایک دفعہ پہلے بھی حضور پر نور کی خدمت میں لکھ چکا ہوں۔اب حضور اقدس کے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے پر مجھے اس بات پر یقین ہو گیا کہ یہ رویا اس پیشگوئی کے متعلق ہے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ عید کا جلسہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک نہایت ہی بلند مقام پر کھڑے ہو کر سبز چوغہ زیب تن کئے خطبہ فرما رہے ہیں۔خطبہ ختم ہونے پر جب میں مصافحہ کے لئے بڑھا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہیں بلکہ حضور انور ہیں۔" یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہیں۔" یہ خواب میں نے اپنے مکرم کپتان ڈاکٹر بدرالدین صاحب اور اپنے بھائی جناب مولوی ظل الرحمن صاحب مبلغ بنگال کی خدمت میں بیان کیا۔مولوی ظل الرحمن صاحب نے بتایا کہ تم کو حضرت امیر المومنین کے متعلق پیشگوئی که "حسن و احسان میں تیر انظیر ہو گا " دکھائی گئی۔" (الفضل قادیان جلد 32 نمبر 199 مورخہ 25اگست 1944ء صفحہ 2) پیشگوئی کے الفاظ یہ بھی ہیں کہ حسن و احسان میں تیر انظیر ہو گا۔اسی طرح حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی کا بیان ہے کہ "ہم نے بار ہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا ہے۔ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لڑکا جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے وہ میاں محمود ہی ہیں۔اور ہم نے آپ سے یہ بھی سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ "میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ میں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں۔" (احکم 28 دسمبر 1939ء کو الہ ماہنامہ خالد سید نا حضرت مصلح موعودؓ نمبر۔جون، جولائی 2008ء صفحہ 38)