خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد 16 وَ كَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا " 87 آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 647) خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 تو یہ مصلح موعود کی پیشگوئی کے وہ الفاظ تھے۔پھر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی کے بارے میں اس پیشگوئی کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں کہ ایسا ہی جب میرا پہلا لڑکا فوت ہو گیا تو نادان مولویوں اور ان کے دوستوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں نے اس کے مرنے پر بہت خوشی ظاہر کی اور بار بار ان کو کہا گیا کہ 20 فروری 1886ء میں یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے۔پس ضرور تھا کہ کوئی لڑکا خورد سالی میں فوت ہو جاتا۔تب بھی وہ لوگ اعتراض سے باز نہ آئے۔تب خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے لڑکے کی مجھے بشارت دی۔چنانچہ میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔" آپ فرماتے ہیں " وہ اگر چہ اب تک جو یکم ستمبر 1888 ء ہے۔" اب یہ اعلان آپ ستمبر 1888ء میں فرمارہے ہیں کہ اگر چہ وہ اب تک جو یکم ستمبر 1888ء ہے " پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔" فرمایا کہ " یہ ہے عبارت اشتہار سبز کے صفحہ سات کی جس کے مطابق جنوری 1889ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے اور سترھویں سال میں ہے۔" (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 373-374) پہلے جو میں نے بتایا تھا وہ پہلے کی ایک تحریر ہے۔پھر بعد میں آگے "حقیقۃ الوحی" میں آپ نے جو لکھا ہے وہ میں نے بیان کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس بارے میں اور بھی حوالے ہیں۔لیکن مزید حوالوں کی بجائے اب میں حضرت خلیفتہ البیع الاول کا آپ کے مقام کے بارے میں کیا خیال تھا، اس بارے میں ایک روایت پیش کر تاہوں۔پیر منظور محمد صاحب بیان کرتے ہیں۔" حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات سے چھ ماہ قبل حضرت پیر منظور محمد صاحب مصنف قاعده سیسر نا القرآن نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے آج حضرت اقدس علیہ السلام کے اشتہارات پڑھ کر پتا مل گیا کہ پسر موعود میاں صاحب ہی ہیں۔" یعنی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد۔" اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کس خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں۔پیر صاحب موصوف نے یہی الفاظ لکھ کر تصدیق کے لئے پیش کئے تو حضرت خلیفہ اول نے ان پر تحریر فرمایا۔" یہ لفظ میں نے برادرم پیر منظور محمد سے کہے ہیں۔" اور پھر دستخط فرمائے۔"نور الدین 10 ستمبر 1913ء۔" آپ فرماتے ہیں 11 ستمبر 1913ء کی شام کے بعد (اوپر والے واقعہ کے اگلے روز جو بیان کیا گیا ہے) حضرت خلیفتہ المسیح گھر میں چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے میں پاؤں سہلانے لگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد بغیر کسی گفتگو اور تذکرے کے خود بخود فرمایا۔" یعنی حضرت خلیفہ اول نے کہ " ابھی یہ مضمون شائع نہ کرنا۔یعنی یہ بات کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔"جب مخالفت ہو اس وقت شائع کرنا۔" پسر موعود صفحہ 28-27 بحوالہ ماہنامہ خالد سید نا حضرت مصلح موعودؓ نمبر۔جون، جولائی 2008ء صفحہ 75-76)