خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد 16 85 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018ء بمطابق 23 تبلیغ 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يوم مصلح موعودؓ کی اہمیت: آجکل ان دنوں میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں پیشگوئی مصلح موعود کی مناسبت سے یوم مصلح موعود کے جلسے منعقد کئے جارہے ہیں۔20 / فروری کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی تھی جس کی مختلف خصوصیات بیان کی گئی تھیں۔اس بارے میں اشتہار شائع فرمایا تھا۔یہ اشتہار 120 فروری 1886ء کو شائع ہوا۔اور جیسا کہ میں نے کہا اس مناسبت سے جہاں ممکن ہے وہاں 20 / فروری کو یوم مصلح موعود منایا جاتا ہے اور جہاں اس تاریخ کو سہولت میسر نہ ہو وہاں تاریخیں آگے پیچھے کر لی جاتی ہیں۔یوم مصلح موعود کا منایا جانا اور اس کے حوالے سے جلسے منعقد کرنا اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عظیم پیشگوئی کے پورا ہونے کی وجہ سے ہے نہ کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کی پیدائش کی وجہ سے۔یہ وضاحت میں نے اس لئے کی ہے کہ بعض لوگ اور یہاں کی نئی نسل، نوجوان یا کم علم یہ سوال کرتے ہیں کہ یوم مصلح موعود جب مناتے ہیں تو پھر باقی خلفاء کے یوم پیدائش کیوں نہیں مناتے۔ایک تو یہ بات واضح ہو کہ یہ دن حضرت مصلح موعود کی پیدائش کا دن نہیں ہے۔آپ کی پیدائش تو 1889ء میں 12 / جنوری کو ہوئی تھی۔پس اس وضاحت کے بعد آج میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے بات کروں گا۔سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں اس پیشگوئی کے الفاظ پیش کروں گا اور پھر یہ بھی کہ آپ کی تحریروں سے یہ بات بھی ثابت ہے اور آپ کا یہ خیال تھا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی تھے۔اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا بھی یہی خیال تھا۔بعض دوسرے بزرگان کا بھی یہ خیال تھا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ہی ہیں۔اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا اس کی مختلف خصوصیات تھیں ، علامتیں تھیں اور یہ علامتیں جس طرح پوری ہوئیں اور اپنوں اور غیروں نے جس طرح ذکر کیا اور انہوں نے محسوس کیا اس کی بعض مثالیں میں پیش کروں گا۔