خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد 16 82 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 فرمایا ان میں تو سب کچھ ہے۔) ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی نظر سے اور انسانوں کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔جب معوذتین نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار کر لیا اور باقی سب ترک کر دیا۔(سنن ابن ماجه ـ كتاب الطب ـ باب من استرقى من العين حديث 3511) اس معاملے میں جو بھی دعائیں پہلے تھیں ان کو ختم کر دیا اور پھر یہی پڑھا کرتے تھے۔(سنن ابوداؤد۔ابواب الوتر۔باب فی المعوّذتین۔حدیث 1462) حضرت ابنِ عابس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابن عابس ! کیا میں پناہ لینے کے بارہ میں تجھے تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں ؟۔بہترین پناہ کس طرح کی ہے جن سے پناہ مانگنے والا پناہ مانگا کرتے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ سورتیں ہیں سورۃ فلق اور سورۃ ناس۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 322- مسند المكيين- حدیث ابن عابس عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث 15527) پھر آخری دو سورتوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔چونکہ سواری کے جانور کم تھے اس لئے لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے اترنے کی باری تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے میرے قریب آئے اور میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ پڑھو۔میں نے یہ کلمہ پڑھ لیا۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورۃ مکمل پڑھی اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسے پڑھ لیا۔پھر اسی طرح اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاس پڑھنے کے لئے فرمایا اور پوری سورۃ پڑھی جسے میں نے بھی پڑھ لیا۔پھر آپ نے فرمایا جب نماز پڑھا کرو تو یہ دونوں سورتیں نماز میں پڑھ لیا کرو۔(مسند احمد بن حنبل۔جلد 6 صفحہ 918۔اوّل مسند البصریین۔حدیث رجل عن النبي صلى الله عليه وسلم حدیث 21025) عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔جب فجر طلوع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کہی اور اقامت کہی۔پھر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا۔پھر آپ نے معوذتین کے ساتھ قراءت کی۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا تُو نے کیسا دیکھا ؟ (وہ پہلے والی روایت سے ملتا ہے۔میں نے عرض کی کہ تحقیق میں نے دیکھ لیا یار سول اللہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی تُو سوئے اور جب بھی اٹھے تو یہ دونوں سورتیں پڑھا کر۔(المصنف في الاحاديث والآثار از ابوبکر بن ابی شیبة جلد 1 صفحہ 403 - كتاب الصلوات من كان يخفّفُ القراءة في السفر۔حدیث 3688) ایک اہم قرآنی دعا: پس یہ اہمیت ہے ان سورتوں کی اور اس زمانے میں ذاتی طور پر ہماری روحانی ترقی اور شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے اور جماعتی طور پر اسلام کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں ان سے بچنے کے لئے ان کے پڑھنے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔آجکل اسلام کے خلاف ایک طرف اسلام مخالف طاقتوں کی بڑی ہوشیاری سے کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف نام نہاد مسلمان علماء اور مسلمان لیڈروں نے ایک ایسی صور تحال پیدا کر دی ہے جہاں فتنہ وفساد پیدا