خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 81
خطبات مسرور جلد 16 81 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 اور آپ فرماتے ہیں کہ " خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ سی سے زندگی پاتا ہے۔وہ گل چیزوں کے لئے مبدء فیض ہے۔یعنی دنیا کو فائدہ پہنچانے والی اور فیض دینے والی اسی کی ذات ہے۔اسی سے ہر فیض کے چشمے پھوٹتے ہیں اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔" یعنی اس کو کوئی فیض پہنچانے والا نہیں ہے۔وہی ہے جو دنیا کو فیض پہنچارہا ہے۔وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ۔اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمتیں دکھلا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدادلوں کا مرغوب ہے۔نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت۔" اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 417۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 4 صفحہ 757) سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ الناس کے نازل ہونے کے بارے میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات ایسی آیات اتری ہیں کہ ان جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔اور وہ یہ ہیں یعنی قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔(صحیح مسلم کتاب صلوة المسافرین وقصرھا۔باب فضل قراءة المعوذتين۔۔۔۔۔1891) پھر احادیث میں تینوں قل پڑھنے کی اہمیت کے بارے میں روایت آتی ہے۔حضرت عقبہ بن عامر جہنی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک جنگی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا اے عقبہ ! پڑھ۔میں نے آپ کی طرف کان لگایا تا کہ آپ جو فرمائیں وہ میں سن کر پڑھوں۔پھر کچھ دیر کے بعد فرمایا اے عقبہ ! پڑھ۔میں پھر متوجہ ہوا کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔کیا پڑھوں میں ؟ آپ نے تیسری مرتبہ پھر یہی فرمایا تو میں نے عرض کیا۔کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا سورة قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔پھر آپ نے آخر تک سورۃ پڑھی۔پھر آپ نے سورۃ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ آخر تک پڑھی۔میں بھی آپ کے ساتھ پڑھتا رہا۔پھر آپ نے سورۃ قُل اعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ آخر تک پڑھی۔میں بھی آپ کے ساتھ پڑھتا رہا۔پھر آپ نے فرمایا کسی شخص نے ان جیسی سورتوں یا کلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی۔" (سنن النسائی کتاب الاستعاذة حديث 5432) یعنی یہ ایسا کلام اور ایسی دعا ہے کہ جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے اور کبھی ضائع نہیں ہوتا اور تمام شرور سے بچتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ ہی نہیں۔اور احادیث میں ایسی روایت ملتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس سے بہتر اللہ تعالیٰ کی اور کوئی پناہ نہیں۔پھر سورۃ فلق اور الناس کے بارے میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑے چل رہا تھا۔آپ نے فرمایا اے عقبہ ! کیا میں تجھے ایسی دو سورتیں نہ سکھاؤں جن کی قراءت انتہائی بہتر اور نفع بخش ہے۔میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں یا رسول اللہ۔تو آپ نے فرما یا قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔اور جب آپ نے صبح کی نماز کے لئے پڑاؤ کیا تو آپ نے انہی کی قراءت کی۔یہی تلاوت کی۔پھر جب آپ نے نماز ادا کر لی تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے عقبہ ! تو کیسے دیکھتا ہے ؟ (شاید اس لحاظ سے بھی انہوں نے کہا ہو کہ بڑی چھوٹی سورتیں آپ نے پڑھی ہیں۔