خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد 16 80 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 غربت کی شکایت کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو اپنے گھر میں داخل ہو تو اگر کوئی گھر میں ہو تو السّلاهُ عَلَيْكُم کہا کرو۔اور اگر کوئی نہ ہو تو پھر بھی السّلامُ عَلَيْكُم کہہ دیا کرو۔اپنے اوپر ہی سلامتی بھیجا کرو۔والسلام تمہیں مل جائے گا اور ایک دفعہ قُلْ هُوَ اللہ احد پڑھا کرو۔تو اس آدمی نے ایسا ہی کیا یہانتک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنارزق عطا کیا کہ اس کے ہمسائے بھی اس سے فیضیاب ہونے لگے۔(روح البيان لاسماعيل حقى بن مصطفی زیر آیت سورۃ الاخلاص جلد 10 صفحہ 558 دار الكتب العلميه بيروت۔2003ء) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس برکت سے اسے اتنا رزق عطا فرمایا کہ وہ ایک وقت ایسا تھا کہ خود اس کو ہاتھ تنگ تھا۔فاقے ہوتے تھے۔اب اتنی کشائش پیدا ہوئی کہ وہ اپنے ہمسایوں کی بھی مدد کیا کرتا تھا۔پس جب انسان توحید کا سبق سیکھ لے اور اس پر عمل کرے اور خدا تعالیٰ کو تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک سمجھے تو پھر اللہ تعالیٰ بے انتہا نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ اور جگہوں پر بھی فرماتا ہے کہ وہ منتقلی کو ایسی ایسی جگہوں سے رزق دیتا ہے کہ جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے یہ سورة قُلْ هُوَ الله احد پسند ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا اس سورت سے پیار تجھے جنت میں داخل کر دے گا۔(مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابة - مُسند انس بن مالك - جلد : 4 حدیث 12459) پھر حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر روز پچاس مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ پڑھی اسے قیامت کے دن اس کی قبر سے پکارا جائے گا کہ کھڑا ہو جا اور جنت میں داخل ہو جا۔(المعجم الاوسط باب الياء من اسمه یعقوب جزء: 6- حدیث 9446 صفحه: 472-473 دارالفكر عمان 1999) ابن دیلمی سے روایت ہے جو کہ نجاشی کی بہن کے بیٹے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بھی کرتے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز میں یا اس کے علاوہ سو مرتبہ قُلْ هُوَ اللہ احد پڑھا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ سے نجات فرض کر دی۔(المعجم الكبير للطبرانی۔جلد 18 صفحہ 331- باب الفاء فیروزالدیلمی حدیث 852۔المكتبة الشاملة) پس یہ اہمیت ہے سورۃ اخلاص کی۔اور جب ہم رات کو یہ پڑھیں تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یہ پڑھنی چاہئے۔جب ہم کہیں کہ خدا تعالیٰ احد ہے تو ساتھ ہی اس کے صمد ہونے کا مقام بھی اور مرتبہ بھی ہمارے سامنے آنا چاہئے۔صمد وہ چیز ہے جو کسی کی محتاج نہیں ہے اور کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔کبھی ہلاک ہونے والی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : صد کے معنی ہیں کہ " بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجو د اور هَالِكُ الذات ہیں۔" (براہین احمدیہ صفح: 518 حاشیه در حاشیہ نمبر 3۔حاشیہ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 4 صفحہ 756) یعنی جو پیدا ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں اور ختم ہونے والی ہیں انہیں فنا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو صد ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ صمد کا مطلب بے نیاز ہے۔بے نیازی اس کی یہ ہے کہ نہ وہ ہلاک ہونے والا ہے، ختم ہونے والا ہے اور نہ اس جیسی کوئی چیز پیدا ہو سکتی ہے۔پس یہ ہمارا خدا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔