خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 79

خطبات مسرور جلد 16 79 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 نہیں چھوڑوں گا۔اگر تم پسند کرتے ہو کہ میں اسی طرح تمہاری امامت کراؤں تو میں تمہارا امام رہوں گا۔اور اگر تمہیں یہ پسند نہیں ہے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا یعنی کہ امامت چھوڑ دوں گا۔سورت کو نہیں چھوڑوں گا۔وہ لوگ اس کو اپنے میں سب سے زیادہ بہتر سمجھتے تھے۔انہوں نے پسند نہ کیا کہ اس کے سوا کوئی اور ان کا امام ہو۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۔آپ نے فرمایا اے فلاں جو بات تمہارے ساتھی تم سے کہتے ہیں تمہیں اس فعل سے کون سی بات روکتی ہے۔"یعنی کہ سورۃ اخلاص نہ پڑھو یا وہی پڑھو اور دوسری سورتیں نہ پڑھو۔تو اکٹھی پڑھنے کی کیا وجہ ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ تم نے یہ سورۃ ہر رکعت میں لازم کرلی ہے ؟ اس نے کہا یہ سورت مجھے بہت پیاری ہے۔آپ نے فرمایا اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔(صحیح البخاری۔کتاب الاذان باب الجمع بين السورتين في الركعة۔۔۔774) پھر حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ جب مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اپنے رب کا شجرہ نسب ہمیں بتائیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔اللهُ الصَّمَدُ نازل فرمائی۔پس صمد وہ ہے جو نہ کسی کا باپ ہے۔نہ اس کا کوئی باپ ہے۔کیونکہ کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو پیدا ہوئی مگر اس نے ضرور مرنا ہے۔اور کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس نے مرنا ہے مگر اس کا ضرور کوئی نہ کوئی وارث ہو گا۔جبکہ اللہ عز و جل نہ تو وفات پائے گا۔نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔کہا کہ اس کے مشابہ کوئی اور نہیں۔اور نہ ہی کوئی اس جیسا، اور نہ ہی اس کی مانند کوئی اور چیز ہے۔(سنن الترمذی ابواب تفسیر القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم- باب وَمِنْ سورة الاخلاص۔۔۔3364) پھر اس بارے میں ایک جگہ حضرت ابو ہریرۃ سے یوں روایت ملتی ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں۔یہانتک کہ یہ کہتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔یعنی کسی بھی چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ " یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سوال ہوتے تھے۔آج بھی یہ سوال بڑے اٹھائے جاتے ہیں۔" آپ نے فرمایا پس جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو تو قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ کہو یہانتک کہ تم یہ سورت ختم کر لو۔" یعنی سورۃ اخلاص پوری پڑھو۔اس کے معنی پہ غور کرو تو تمہیں پتا لگ جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کو پیدا کرنے والی کوئی چیز نہیں۔وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔" فرمایا کہ پھر اس کو چاہئے کہ وہ شیطان سے پناہ طلب کرے تو وہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔الابانة الكبرى لابن بطه باب ترك السؤال عما لا يُغنى والبحث والتنقير جزء : 1 صفحه : 413 حدیث نمبر 327) حضرت ابوہریر ہؓ بیان کرتے ہیں۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ پڑھتے ہوئے سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہو گئی۔میں نے پوچھا کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا جس اخلاص سے یہ پڑھ رہا ہے اس پر جنت واجب ہو گئی۔(سنن الترمذی ابواب تفسیر القرآن عن رسول الله صلى الله علیه وسلم - باب وَمِنْ سورة الاخلاص۔۔۔2897) پھر حضرت سہیل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی