خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 78

خطبات مسرور جلد 16 78 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر قرآن کا تیسر ا حصہ پڑھوں گا۔غور سے سنو یہ سورۃ اخلاص قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔(صحیح مسلم کتاب صلوة المسافرین و قصرها باب فضل قراءة قُلْ هُوَ الله أحد۔۔۔1888) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تیسر ا حصہ کیوں کہا؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو توحید کو ثابت کرنے اور اس کے قیام کے لئے نازل فرمایا۔پس اس سورۃ میں بڑے واضح الفاظ میں اور جامع انداز میں توحید کو بیان کیا گیا ہے۔پس اس کے الفاظ پر غور کرنے اور عمل کرنے سے انسان حقیقی توحید پر عمل کر سکتا ہے اور پھر قرآن کریم کو خدائے واحد کا کلام سمجھ کر جب بھی عمل کی کوششیں کرے گا تو گویا حقیقی توحید کو سمجھنے والا اور اس پر قائم ہونے والا ہو گیا اور پھر قرآن کریم کی تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق بھی ملے گی۔تو انسان کو صرف اتنا ہی نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ میں نے سورۃ اخلاص پڑھ لی تو تین حصہ قرآن کریم پڑھ لیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اس کو پڑھو اور پھر توحید پر قائم ہو اور اس پر عمل کرو۔اسی طرح بعض روایات میں بعض اور آیات بھی ہیں جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک حصہ ہے۔یہ ایک چوتھائی حصہ ہے۔تو اگر اسی کو لیا جائے تو گویا ان چند آیتوں کو پڑھ کر لوگ کہیں گے کہ قرآن کریم مکمل ہو گیا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد یہ ہے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جن پر تم لوگ عمل کرو اور پھر قرآن کریم پر غور کرو، توحید کے قیام کی کوشش کرو تو تبھی تم قرآن کریم کو پڑھنے والے ہو گے۔اور قرآن کریم کیا ہے ؟ قرآن کریم کی تعلیم توحید کے قیام کے لئے ہی ہے جس کے لئے ہر انسان کو کوشش بھی کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک روایت ہے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک سریہ کا امیر بنا کر بھیجا۔جنگ کے لئے روانہ کیا۔جو اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تھا اور قراءت کا اختتام قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ پر کیا کرتا تھا۔جب صحابہ واپس آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس سے پوچھو کہ وہ کیوں ایسا کرتا ہے ؟ صحابہ نے جب اس سے پوچھا تو اس نے کہا اس لئے کہ یہ رحمان خدا کی صفت ہے۔اس وجہ سے میں اس کو پڑھنا پسند کرتا ہوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اسے خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب صلوة المسافرین وقصرھا۔باب فضل قراءة قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔۔۔1890) پھر اسی بارے میں بخاری میں حضرت انس کے حوالے سے ایک حدیث ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی مسجد قبامیں ان کی امامت کرایا کرتا تھا۔وہ جب ان سورتوں میں سے جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں کوئی سورۃ شروع کرتا تو پہلے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔یعنی سورۃ اخلاص پڑھتا۔جب اسے پڑھ لیتا تو پھر اس کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھتا اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتا۔اس کے ساتھیوں نے اس بارے میں اس سے بات کی اور کہا کہ تم سورۃ اخلاص سے شروع کرتے ہو اور پھر نہیں سمجھتے یہ سورۃ تمہیں کافی ہو گئی بلکہ ایک اور سورت بھی اس کے ساتھ پڑھتے ہو۔یا تو تم اس کو پڑھا کرو یا اس کو چھوڑ دو اور کوئی دوسری سورت پڑھو۔اس نے کہا کہ میں تو اسے ہر گز