خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد 16 77 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میر ا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے عقبہ بن عامر۔کیا میں تمہیں تورات اور انجیل اور زبور اور فرقان عظیم میں جو سورتیں اتاری گئی ہیں ان میں سے تین بہترین سورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔میں نے عرض کی۔کیوں نہیں۔اللہ مجھے آپ پر فدا کرے۔پھر آپ نے مجھے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الناس پڑھ کر سنائیں۔پھر فرمایا اے عقبہ ! تم انہیں مت بھولنا اور کوئی رات ایسی نہ گزارنا جب تک تو انہیں پڑھ نہ لے۔عقبی کہتے ہیں کہ جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تو انہیں نہ بھولنا۔تو اس وقت سے میں انہیں نہیں بھولا اور میں نے کوئی رات ایسی نہیں گزاری جب تک میں نے انہیں پڑھ نہ لیا ہو۔(مسند احمد بن حنبل مسند عقبہ بن عامر جلد 5 صفحہ 895-896 مطبوعہ بیروت۔ایڈیشن 1998ء۔حدیث نمبر 17467) پس آپ کا یہ فرمانا کہ تم انہیں مت بھولنا اور کوئی رات ایسی نہ گزار نا کہ جب تک انہیں پڑھ نہ لو، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کس با قاعدگی کے ساتھ اس کو پڑھا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی باتوں پر ، احکامات پر ، دعاؤں پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تبھی آپ دوسروں کو فرمایا کرتے تھے۔پھر سورۃ اخلاص کی اہمیت کے بارے میں یعنی قُلْ هُوَ الله احد جو سورت شروع ہوتی ہے اس کے بارے میں ایک حدیث میں اس طرح ذکر ملتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک آدمی کو قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا جو اس کو بار بار پڑھ رہا تھا۔جب صبح ہوئی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بیان کی اور گویا کہ وہ اس شخص کو کم یا چھوٹا سمجھ رہا تھا اس لئے شکایت کے رنگ میں بیان کیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔(صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن۔باب قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔۔۔۔۔5013) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ضمن میں ایک جگہ تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن مجید پڑھے۔یہ بات صحابہ پر بڑی گراں گزری۔انہوں نے کہا یارسول اللہ ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے کہ ایک تہائی قرآن کریم رات میں پڑھ لے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ الواحد الصمد۔یعنی سورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن ہے۔(صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن باب قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔۔۔۔5015) سورۃ اخلاص کے قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے حوالے سے صحیح مسلم نے ایک روایت اس طرح بھی ہے۔حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جمع ہو جاؤ میں تمہیں قرآن کا تیسر ا حصہ پڑھ کر سناؤں گا۔ساروں کو اکٹھا کیا، جمع کیا کہ مسجد میں آجاؤ۔پس لوگ اکٹھے ہو گئے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور قُلْ هُوَ الله احد کی تلاوت فرمائی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آسمان سے کوئی خبر یعنی وحی آئی ہے جس کی وجہ سے آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور اندر چلے گئے ہیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا