خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 76

خطبات مسرور جلد 16 76 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 فروری 2018 روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سوتے وقت آیتہ الکرسی، سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ الناس یعنی قرآن کریم کی جو آخری تین سورتیں ہیں، یہ اور آیۃ الکرسی تین دفعہ پڑھ کرہاتھوں پر پھونکتے اور پھر اپنے ہاتھوں کو جسم پر اس طرح پھیرتے کہ سر سے شروع کر کے جہاں تک جسم پر ہاتھ جاسکتا جسم پر پھیرتے۔پس جس کام کو آپ نے باقاعدہ جاری رکھا یا با قاعدگی سے کیا تو یہ آپ کی سنت بنی اور اس کام کو ہر مسلمان کو کرنا چاہئے اور ہم احمدی جن کی اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت پر عمل کرنے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید رہنمائی فرمائی ہے ہمیں اس پر عمل کرنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے اور خاص طور پر ان حالات میں جن میں سے ہم گزر رہے ہیں دعاؤں اور نمازوں اور اذکار کی طرف خاص طور پر نہ صرف اپنی ذاتی روحانی اور دنیاوی ضروریات کے لئے توجہ دینی چاہئے بلکہ جماعتی فتنوں اور فسادوں اور حاسدوں اور دشمنوں کے شر سے بچنے کے لئے بھی ایک انتہائی اہم فرض سمجھ کر توجہ دینی چاہئے۔اس ذکر اور آیات کی اہمیت بعض اور احادیث سے بھی ملتی ہے جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جہاں تک آیتہ الکرسی کا تعلق ہے اس کے بارے میں دوجمعہ پہلے میں بیان کر چکا ہوں۔آج قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کے بارے میں احادیث کے حوالے سے بات کروں گا۔کس طرح بار بار اور مختلف رنگ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ان سورتوں کے پڑھنے کے بارے میں تلقین فرمائی ہے۔ایک روایت میں آخری تینوں قل پڑھ کر جسم پر پھونکنے کے بارے میں حضرت عائشہ اس طرح بیان فرماتی ہیں۔فرمایا کہ ہر رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تو اپنی ہتھیلیوں کو جوڑتے اور پھر ان پر پھونکتے اور ان میں یہ پڑھتے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ یعنی یہ تینوں سورتیں پڑھتے اور پھر جہاں تک ممکن ہو تا دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیرتے۔آپ اپنے سر اور چہرے سے دونوں ہاتھ پھیر ناشر وع کرتے اور پھر جو جسم کا حصہ آتا جہاں تک آپ کا ہاتھ جاسکتا تھا آپ تین بار ایسا کرتے۔(صحیح بخاری - کتاب فضائل القرآن باب فضل المعوذات۔۔۔۔5017) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام اس باقاعدگی سے فرماتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری میں خود یہ دعائیں پڑھتیں اور آپ کے ہاتھوں پر پھونک کر آپ کے ہاتھ ہی آپ کے جسم پر پھیر تیں۔چنانچہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے او پر پھونکتے۔کہتی ہیں جب آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو میں یہ سورتیں آپ پر پڑھتی اور آپ کے ہاتھ ان کی برکت کی امید سے آپ پر پھیرتی۔(صحیح بخاری۔کتاب فضائل القرآن۔باب فضل المعوذات۔۔۔5016) پس یہ خیال حضرت عائشہ کو آنا یقیناً اس وجہ سے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں بہت با قاعدہ تھے اور اس کی برکت کی اہمیت حضرت عائشہ پر خوب کھول کر واضح فرمائی تھی۔پھر صحابہ کو ان سورتوں کی برکات اور اہمیت کا کس طرح احساس دلایا۔اس بارے میں حضرت عقبہ