خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد 16 73 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 فروری 2018 کام کی efficiency جو ہر کارکن کے لئے ایک نمونہ ہے۔صدر مجلس کار پر داز تھے۔وہاں بھی بڑی گہرائی سے جائزہ لیا کرتے تھے۔پھر جب یہ ناظر اصلاح وارشاد مقامی تھے تو سمیع اللہ زاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ جتنے مربیان کی فیملیز یہاں رہتی ہیں ان کی فہرست بناؤ۔چنانچہ جب میں نے ان کو فہرست دی تو اپنی اہلیہ کے ساتھ ہر فیملی کے گھر میں گئے اور ان کو کہا کہ تمہارے خاوند میدان عمل میں ہیں اس لئے تمہاری کوئی پریشانی ہو، کوئی ضرورت ہو تو اُن کو پریشان نہیں کرنا۔تم مجھے آ کے بتایا کرو۔فرید الرحمن صاحب یہاں تعمیل و تنفیذ کے وکالت کے کارکن ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ چوہدری محمد علی صاحب کی کتاب کی کمپوزنگ میں نے کی اور فائنل مسودہ دکھانے کے لئے چوہدری صاحب نے مجھے ان کے پاس بھیج دیا۔میں نے ان کو دیا اور تھوڑی دیر کے لئے رکا۔تو انہوں نے پوچھا کہ کوئی مسئلہ ہے۔میں نے بڑے ڈرتے ڈرتے کہا میری والدہ کا آپریشن ہے۔کہتے ہیں میں نے اتنی بات ہی کی تھی تو انہوں نے کہا کہ کتنی رقم چاہئے ؟ اور اپنی دراز سے خزانے کی چیک بک نکالی اور میز پر رکھی۔تو میں نے کہا سات ہزار روپیہ چاہیئے۔ضرورت ہے مجھے دے دیں اور جب میر اہل آئے گا تو اس میں سے کاٹ لیں۔لیکن انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں سے مجھے چیک دیا اور فرمایا کہ دعا بھی کروں گا۔تمہارا یہ مسئلہ نہیں ہے کہ بل آئے، کاٹوں یا نہ کاٹوں۔تم یہ پیسے لے جاؤ اور اگر اور بھی ضرورت ہو تو میرے پاس آجانا اور ڈرنا نہ۔اسی طرح حافظ صاحب نے بھی لکھا ہے کہ خلافت سے ان کا ایک خاص تعلق تھا جو ہر موقع پر ظاہر ہو تا تھا۔اور جب ان کو ناظر اعلیٰ بنایا گیا ہے تو انجمن کے اجلاس میں ناظر ان کے سامنے مجلس میں انہوں نے جو پہلی بات کی وہ یہ تھی کہ مجھے تعاون کے لئے کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو آپ سب خدام سلسلہ بہر حال کریں گے کیونکہ خلیفتہ المسیح نے مجھے مقرر کیا ہے۔لیکن مجھے آپ کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے کیونکہ بعض وجودوں کے قدموں میں جگہ پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔اسی طرح جب نظارت دیوان سے یہ بدلے گئے اور ناظر اعلیٰ بنائے گئے تو ان کے ایک کارکن لکھتے ہیں کہ دفتر جانے سے پہلے ہمیں خود دفتر ملنے کے لئے آئے اور پھر کہا کہ آپ سے رخصت لینے آیا ہوں۔یہ الفاظ سن کر ہمارا دل بہت بھر آیا تو ہم نے کہا کہ میاں صاحب ! آپ یہیں رہ جائیں یا ہمیں بھی ساتھ لے جائیں۔جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں کیسے ساتھ لے جاسکتا ہوں۔میں تو خود خلیفہ المسیح کے حکم پر جا رہا ہوں۔اور پھر یہاں سے چند دنوں بعد ہی اپنے رب کے حکم سے اُس کے پاس چلے گئے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔یہ اس جگہ چلے گئے جہاں ہر ایک نے اپنی باری پر جانا ہے۔لیکن خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو خدا کی رضا کے لئے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں پر قائم رہنے کی اور وہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور جس طرح انہوں نے وفا کے ساتھ اپنے وقف کو نبھایا اور اپنے سپر د خدمات کو نبھا یا اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام واقفین زندگی اور عہدیدار ان کو بھی چاہتے کہ اسی طرح کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو آئندہ بھی نیک، صالح، فدائیت اور وفا کے ساتھ