خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 72

خطبات مسرور جلد 16 72 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 نہیں ہونے دیا اور لے کے پھرتے رہے۔جب سیڑھیاں چڑھنے لگے تو تب مبشر ایاز صاحب کہتے ہیں ہمیں احساس ہوا بلکہ انہوں نے خود ہی بتایا کہ مجھے یہ تکلیف ہے۔تب ہمیں شرمندگی ہوئی کہ کیوں ان کو تکلیف دی۔اسی طرح اور بہت سارے معاملات ہیں۔جب بھی جماعتی خدمت کے لئے کہیں بھیجا تو پھر انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ رستے میں تکالیف کیا ہیں۔ایک دفعہ کسی جماعتی معاملہ میں دو فریقین میں لڑائی ہو گئی تھی۔ان کی صلح کے لئے ان کو بھیجا گیا اور راستہ بڑا خراب تھا۔کار آگے جا نہیں سکتی تھی۔ٹریکٹر ٹرالی پر مرزا خورشید احمد صاحب بھی اور میاں غلام احمد صاحب بھی دونوں بیٹھے اور مربیان کو ساتھ بٹھایا اور چلے۔راستے میں ایک ایسا راستہ آیا کہ ٹرالی کا وہاں سے گزرنا بھی خطر ناک تھا۔وہاں سے پھر اترے۔پھر پیدل چلے اور آخر کار جب اس گاؤں، اس جگہ پر پہنچے تو مسجد میں بلا کر فیصلہ دیا۔انہوں نے دعائیں بھی کیں اور لوگوں کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ جب اتنی دُور سے اور مشکل سفر کر کے آئے ہیں تو سالوں کی جو لڑائی تھی اور ان کا معاملہ تھا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی قربانی اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے حل ہو گیا۔اور بہت سارے واقعات ہیں۔کچھ ملتے جلتے ، کچھ نئے۔لیکن اب وقت نہیں ہے کہ بیان کئے جائیں۔ہر ایک نے لکھا ہے کہ کارکنوں کے ساتھ بہت زیادہ محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔ان کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھنا۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ جب یہ نائب ناظر تعلیم تھے تو اگر خلیفہ وقت کی طرف سے بعض حالات کی وجہ سے کسی طالبعلم کے وظیفہ کی نامنظوری آجاتی تو اس وقت یہ کہا کرتے تھے کہ وظیفہ کی منظوری یا دوسری خوشی کی کوئی خبر ہو تو خلیفہ وقت کی طرف سے دیا کرو اور اگر ناراضگی اور نا منظوری ہے تو ہمیں اپنی طرف سے دینی چاہئے۔ظفر احمد ظفر صاحب مربی ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے بھی پاؤں میں فریکچر ہونے کا وہی واقعہ پھر سنایا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ہم بھی ساتھ تھے پاؤں سوج گیا لیکن انہوں نے پرواہ نہیں کی۔سلیم صاحب بھی یہ لکھتے ہیں کہ جب آپ حضرت خلیفہ ثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے تو جب زیادہ ڈاک اکٹھی ہو جاتی تھی تو سارے سٹاف کو کہا کرتے تھے کہ اپنی اپنی ساری ڈاک ایک جگہ اکٹھی کر دو اور پھر سب تقسیم کرو اور تقسیم میں خود اپنے ذمہ بھی لیتے تھے اور کہتے ہیں ہم کلرکوں سے زیادہ ڈاک یہ خود پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر اپنے ذمہ لیا کرتے تھے اور جواب دے کے ہمارے سے پہلے کام بھی ختم کر لیا کرتے تھے۔خط لکھنے میں ڈرافٹنگ میں بھی ان کو بڑا اچھا ملکہ تھا اور تحریر بھی ان کی بڑی شستہ تھی۔بڑی پختہ تحریر تھی اور ڈرافٹنگ جیسا کہ میں نے کہا بہت اچھی تھی۔وکالت مال ثانی کے ایک کار کن لکھتے ہیں کہ تحریک جدید کی ہم تاریخ لکھ رہے تھے مالی قربانی ایک تعارف اس پہ ہم لکھ رہے تھے۔کئی غلطیاں نکلیں اور آخر فائنل ڈرافٹنگ کر کے جو وکیل المال تھے انہوں نے کہا کہ یہ فائنل میاں احمد کو دے آؤ تا کہ وہ پڑھ لیں اور دیکھ لیں کوئی نقص تو نہیں رہ گیا۔کہتے ہیں تو میں نے کہا چلو ٹھیک ہے میاں احمد کو دے دیتے ہیں۔150 سے 200 صفحے ہیں۔اتنا کام تھا کہ چار پانچ دن تو ہمیں سکون ملے گا۔لیکن کہتے ہیں صبح میں دفتر آیا تو وہ لفافہ پڑا ہوا تھا اور اس پر درستیاں بھی کی ہوئی تھیں اور نشان بھی لگائے ہوئے تھے اور راتوں رات وہ ساری پڑھ کے انہوں نے صبح اس تک پہنچادی۔یہ تھی ان کی