خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 71

خطبات مسرور جلد 16 71 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 طرح ایک مددگار کار کن نے بھی لکھا۔ایک عام کارکن نے بھی لکھا کہ مجھے پہلے ڈانٹا۔اس کے بعد معذرت کی۔اسی طرح ایک اور واقعہ کسی نے لکھا کہ میرے سے دفتر میں کچھ زیادتی ہوئی تو انہوں نے تھوڑی سی تنبیہ کی۔میں گھر میں بیٹھا استغفار کر رہا تھا تو اتنے میں دروازہ کھٹکا اور جب میں باہر گیا تو دیکھا کہ میاں احمد صاحب کھڑے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج میں نے تمہیں کچھ سخت الفاظ کہہ دیئے تھے۔اس کے لئے معذرت ہے اور واپس مڑ کے کار میں بیٹھے اور واپس آگئے۔مبشر ایاز صاحب کہتے ہیں کہ میں خالد رسالہ کا ایڈیٹر تھا۔محمود بنگالی صاحب مرحوم آسٹریلیا سے تشریف لائے ہوئے تھے ان کا انٹرویو تھا۔انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ جب میاں احمد صاحب صدر تھے تو اس وقت وہ تربیتی کلاس کے دوران ناظم اعلیٰ تربیتی کلاس تھے۔جب کلاس ختم ہوئی تو انہوں نے جب ہل پیش کیا تو کچھ آنے بجٹ سے زائد خرچ ہو گئے تھے۔کچھ آنے کا مطلب ہے کہ چند پیسے۔صدر صاحب کی طرف سے بل مسترد ہو گیا۔رد ہو گیا کہ یہ نہیں پاس ہو سکتا۔کہتے ہیں میں خود ان کے پاس گیا کہ یہ کون سی بڑی بات ہے۔چند آنے زائد ہوئے ہیں اور یہ کوئی ایسی بڑی رقم نہیں ہے۔اگر آپ نہیں دیتے تو میں اپنی جیب سے خرچ کر لیتا ہوں۔تو انہوں نے کہا کہ جیب سے خرچ کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ میں آپ لوگوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جماعتی اموال کو خرچ کرنے میں احتیاط کرنی چاہئے اور جو جماعتی قواعد ہیں جو نظام موجود ہے ان کو فالو (follow) کرنا چاہئے۔اور اگر ضرورت زیادہ تھی تو پہلے منظوری لیتے پھر خرچ کرتے۔اور کہتے ہیں کہ بنگالی صاحب کہا کرتے تھے کہ ان کی یہ گرفت جو تھی یہ پھر باقی زندگی میں میرے بہت کام آئی۔کہتے ہیں خلافت کے ساتھ بھی ان کا بڑا تعلق تھا۔ایک دفعہ ایک افتاء کمیٹی میں زکوۃ کے معاملے میں بات ہو رہی تھی۔افتاء نے ایک رپورٹ تیار کی تھی۔میرا خیال ہے گھوڑوں کے اوپر زکوۃ نہ ہونے کے اوپر شاید بحث ہو رہی تھی۔اس کو میں نے رڈ کر دیا اور میں نے کہا اس کا دوبارہ جائزہ لیں۔اجتہاد کی ضرورت ہے۔کئی کمیٹیاں بنیں۔ہر دفعہ علماء کی لمبی لمبی بخشیں ہوتی تھیں اور نتیجہ پر نہیں پہنچتے تھے۔آخر صدر صاحب نے ان کو اس کمیٹی کا صدر بنایا۔وہاں بھی علماء بڑی تیاری کر کے آئے تھے کہ میں نے جو بات کی ہے اس کے الٹ کریں۔تو انہوں نے کچھ دیر تو ان کی بات سنی۔پھر مبشر ایاز صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے جلالی رنگ میں کہا کہ جب خلیفہ وقت نے فیصلہ کر دیا تو پھر ہم یہ سوچ کیوں رہے ہیں کہ اس کے خلاف ہو سکتا ہے اور ساری دلیلوں کو رڈ کر دیا ور یہ نہیں دیکھا کہ کون بڑا عالم ہے اور کون کیا کہہ رہا ہے۔کہتے ہیں تاریخ احمدیت اور جماعتی واقعات اور روایات کے تو گویا یہ انسائیکلو پیڈیا تھے اور کہتے ہیں کہ آجکل میں سوانح حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھ رہا ہوں کہیں مجھے دقت پیش آتی تو ان کی طرف رجوع کرتا اور ان کا اس بارے میں بڑا مستند اور ثقہ اور ٹھوس علم تھا۔اسی طرح قادیان کے مقامات کے بارے میں بڑا علم تھا اور اگر قادیان میں کوئی ان کو کہہ دیتا کہ ہمیں دکھائیں اور وہاں کے تاریخی مقامات کا تعارف کر وائیں تو بڑی خوشی سے تعارف کروایا کرتے تھے۔ایک دفعہ تو یہ بیمار تھے۔پاؤں میں موچ پڑی ہوئی تھی لیکن پھر بھی کسی کو احساس