خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 70

70 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 خطبات مسرور جلد 16 درخواست کرتا ہوں۔تو میں نے پوچھا وہ کون ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ خلیفہ وقت اور فرمایا کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھا کرو۔یہ نو مبایع کہتے ہیں کہ میں نے ان کی آنکھوں میں خلیفہ وقت کی جو محبت اور جوش دیکھا تھا وہ قابل دید تھا اور وہ لمحات خاکسار کی آنکھوں میں نقش ہو کے رہ گئے ہیں۔انجم پرویز صاحب یہاں عربی ڈیسک کے مربی ہیں وہ لکھتے ہیں کہ چوہدری محمد علی صاحب نے بتایا کہ ایک دن دو پہر کو شدید گرمی میں سائیکل پر میاں احمد کسی شخص کو تلاش کر رہے تھے جو رنگ و روغن کرنے والا تھا۔انہوں نے پوچھا کہ اتنی گرمی میں کس کو تلاش کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس شخص کو میں نے ایک غلط ہو میو پیتھی دوائی دے دی ہے اور اب اس کی تلاش کر رہا ہوں کہ کہیں وہ کھانہ لے تو صحیح دوائی اس تک پہنچا دوں۔اس لئے میں خود اس کو تلاش کر کے اس کو دوائی پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں اور وہ مل نہیں رہا۔اسی طرح جو بھی فرائض اور بہت ساری جگہوں پر جو خدمات ان کے سپرد تھیں وہ بڑے احسن رنگ میں انجام دیتے رہے۔بہت سارے واقعات لوگوں نے لکھے ہیں۔اسی طرح جو بھی دفتروں میں ان کے ساتھ کام کرنے والے تھے وہ کہتے ہیں کہ انتہائی نرمی سے اور پیار سے اور محبت سے کام کرواتے تھے۔دکھی اور مشکلات میں مبتلا لوگوں اور ضرورتمندوں کی ممکن حد تک ہمدردی کرنے والے اور ان کی مشکلات دور کرنے والے اور بڑے زیرک، معاملہ فہم تھے۔ایسی خداداد صلاحیت تھی کہ فوری طور پر معاملے کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ فوری طور پر کارروائی کر کے ان کو کام سر انجام دینے کی عادت تھی۔اسی طرح ایک دفعہ کچھ لڑکے دفتر میں آئے۔یہ وفات سے چند دن پہلے کی بات ہے حفاظت مرکز کے جو بعض کارکنان ہیں انہوں نے ان سے زیادتی کی تھی۔کوئی مارا مورا تھا یا سختی کی تھی۔وہ شکایت لے کر آئے تھے۔کسی کو زیادہ ضر میں بھی لگی ہوئی تھیں۔اس پر انہوں نے ان سے کہا کہ تم نے ہسپتال میں جا کر دکھایا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔تو ان کو کہا کہ پہلے جا کر علاج کرواؤ۔آج دفتر میں چھٹی ہے۔جب دفتر کھلتا ہے تو میں انشاء اللہ ساری کارروائی کروں گا اور جو بھی قصور وار ہے، چاہے وہ عہدیدار ہو اس کو سزا ملے گی اور فوری طور پر وہاں کارروائی بھی کر دی اور لڑکوں کو بھیجا کہ پہلے اپنا ہسپتال سے علاج کروا کے آؤ۔دیوان میں اقبال بشیر صاحب ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ جب میاں احمد صاحب کو ناظر دیوان بنایا گیا تو دفتر کا عملہ تھوڑا تھا اور صرف دو کلرک تھے اور ایک مدد گار تھا۔کام جب زیادہ ہو جاتا تھا تو اکثر اوقات یہ ہوتا تھا کہ میاں احمد صاحب ہمارے ساتھ آکے بیٹھ جاتے تھے اور ڈاک کی آمد وروانگی وغیرہ کا کام ہمارے ساتھ کیا کرتے تھے۔ریاض محمود باجوہ صاحب، مربی رہے ہیں۔ریٹائر ہو گئے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا تو دوران گفتگو میاں صاحب کے لہجے میں سختی آگئی اور عام طور پر ہو بھی جاتا ہے اور مجھے اس پر کوئی ملال اور تعجب بھی نہیں تھا۔میں گھر آگیا۔شام ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے دروازہ کھولا تو میاں صاحب کھڑے تھے۔ان کو دیکھ کر حیرانی ہوئی۔وہ کہنے لگے کہ آج آپ سے دفتر میں تلخی سے بات ہوئی ہے۔اس پر آپ سے معذرت کرنے آیا ہوں۔کہتے ہیں ان کا یہ رویہ تو میرے تصور میں بھی نہیں تھا۔اس وقت سے میں ان کا قائل ہوں۔اسی