خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 69
خطبات مسرور جلد 16 69 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 09 فروری 2018 اسی طرح بہت سارے لوگوں نے لکھے ہیں کہ ہم نے بہت سارے کام کے سلیقے ان سے سیکھے۔ڈاکٹر سلطان مبشر بھی لکھتے ہیں کہ بہت سارے کام کے اسلوب اور طریقے ان سے سیکھے۔ان کو بڑی گہرائی میں جا کر کام کرنے کی عادت تھی۔ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب ہی لکھتے ہیں کہ 84ء کے آرڈیننس کے بعد وفاقی شرعی عدالت میں جو اپیل کی گئی اس کے انتظامات کے ذمہ دار میاں احمد صاحب تھے۔کہتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میاں صاحب اچانک ایوان محمود، جہاں خاکسار بیڈ منٹن کھیل رہا تھا، خود تشریف لائے اور کہنے لگے کہ لاہور عدالت میں کتب کی ضرورت ہوتی ہے جو یہاں لائبریری سے لے جانا ہوں گی اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ وہاں لے کے جایا کریں اور جن کتب کی ضرورت ہوتی تھی وہ لاہور سے فون پر ربوہ لکھوا دی جاتی تھیں اور پھر لائبریری کے عملے کے ساتھ یہ خود محنت کرتے ، کوشش کرتے اور کتابیں نکلواتے۔یہ نہیں کہ صرف کہہ دیا تو چلے گئے بلکہ ان کو بیٹھ کر خود کام کروانے کی عادت تھی۔یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھنے والے تھے۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ آج ہی میرے پاس آؤٹ ڈور میں ایک خاتون بشریٰ صاحبہ یہاں ربوہ کی رہنے والی ہیں آئیں۔شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ان کے ریزلٹ دیکھ کر میں نے انہیں کہا کہ خدا کے فضل سے اب تو آپ کے نتائج نارمل آئے ہیں۔یہ سن کر وہ رو پڑی۔تو میں نے تعجب سے انہیں دیکھا تو انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ ہاں ڈاکٹر صاحب میری شوگر تو ٹھیک ہو گئی ہے مگر میرا مفت علاج کرانے والے دونوں حضرات مرزا خورشید احمد صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب اس دنیا سے چلے گئے۔کہتے ہیں میں نے انہیں تسلی دی کہ خدا کے فضل سے جماعتی نظام کے تحت یہ علاج جاری رہے گا مگر وہ بہت یاد کرتی رہیں اور روتی رہیں۔عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل کہتے ہیں کہ 73ء کے آخر میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مجلس شوریٰ خدام الاحمدیہ کے مشورے کے بعد صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ مقرر کیا تو مرزا غلام احمد صاحب اس وقت نائب صدر تھے۔میں نے بھی انہیں اپنی عاملہ میں ان کے وسیع تجربے کی وجہ سے نائب صدر کے طور پر تجویز کیا۔مرزا غلام احمد صاحب اپنے علم اور تجربہ اور اپنی عمر اور مقام کے لحاظ سے مجھ سے بہت سینئر تھے لیکن جب آپ کو نائب صدر مقرر کیا گیا تو عطاء المجیب صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے انتہائی عاجزی سے ہر کام میں بھر پور تعاون کیا اور کسی مرحلے پر بھی ذرہ برابر بھی اظہار نہیں ہونے دیا کہ وہ تو مجھ سے بہت سینئر ہیں۔ایک شاہد عباس صاحب ہیں۔ملائیشیا سے لکھتے ہیں کہ 2005ء میں میں نے بیعت کی اور مرکز کی زیارت کے لئے گیا تو دفاتر میں مرزا غلام احمد صاحب تشریف لا رہے تھے تو میرے ساتھی معلم دانیال صاحب نے مجھے کہا کہ یہ خلیفہ وقت کے بڑے قریبی رشتہ دار ہیں۔ان کو دعا کے لئے کہہ دیں۔کہتے ہیں میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ میں شیعہ فرقے سے جماعت احمدیہ میں داخل ہوا ہوں میرے لئے دعا کریں۔انہوں نے مجھے گلے لگایا اور میر اہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور بڑے جوش سے کہا کہ میں آپ کو ایک ایسی ہستی کیوں نہ بتادوں جن کو میں خود دعا کے لئے