خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد 16 68 خطبہ جمعہ فرموده مورخه 09 فروری 2018 دفعه مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے نمائندہ کے طور پر حضور کے وفد میں شامل ہوئے۔قادیان کے کارکن اکرم صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے مرزا خورشید احمد صاحب کی وفات پر ان کو افسوس کیا تو انہوں نے بڑے درد سے مجھے کہا کہ میرے لئے قادیان میں خود بھی دعا کرنا اور دوسرے بزرگان کو بھی دعا کے لئے کہنا کیونکہ میاں خورشید کی وفات کے بعد اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے نئی ذمہ داریاں کما حقہ ادا کرنے کی توفیق دے۔اس طرح دعا کے لئے بھی کہتے رہتے تھے۔جب قادیان کا سفر کرتے تو درویشوں کے گھروں میں جاتے اور اسی طرح وہاں کے درویشوں کی بیوگان اور یتامی کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے۔مقامات مقدسہ کا ان کو بڑا علم تھا۔اکرم صاحب ہی یہ لکھتے ہیں کہ قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہاں دعا کیا کرتے تھے اکثر وہاں کھڑے ہو کر نوافل پڑھا کرتے تھے اور مجھے بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں۔ان مقامات میں ، مقدس مقامات میں رہتے ہیں۔اس لئے یہاں بہت دعائیں کیا کریں۔خدام الاحمدیہ کے صدر کے طور پر ان کی بڑی خدمات ہیں۔ہر جگہ خدام تک پہنچے۔(مبشر ) گوندل صاحب نے بھی لکھا کہ ایک دفعہ ان کا سندھ کا دورہ تھا تو بعض جگہ سواری نہیں جا سکتی تھی۔کار بھی نہیں جا سکتی تھی تو پیدل سفر کر کے جنگلوں میں خدام تک پہنچے جس کا خدام پر بڑا اچھا اثر ہوا اور اب تک وہ یاد کرتے ہیں۔اسی طرح اسفند یار منیب صاحب جو شعبہ تاریخ کے انچارج ہیں وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ احمدیت کے لئے بھی بطور خاص مفید وجو د تھے۔مشاورتی پینل کے رکن تھے۔نہایت باریک بینی سے تاریخ کے مسودے کو دیکھتے تھے اور نہایت قیمتی اور وقیع تجاویز دیتے اور رہنمائی فرماتے تھے۔جماعتی تاریخی واقعات کے پس منظر یا جزئیات و نفسیات سے بخوبی واقف تھے۔اور محمد دین ناز صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن کہتے ہیں جب ناظر اعلیٰ کی تعیناتی ہوئی تو میں ان کے کمرے میں گیا تو یہ نظارت علیاء کی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور حالت دیدنی تھی کہ آنسوؤں سے آنکھیں بھری ہوئی تھیں۔دعاؤں کے جذبات سے مغلوب چہرہ تھا اور محویت میں ڈوبا ہوا تھا اور بڑی عاجزی سے انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے کہا۔زاہد قریشی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جب یہ خدام الاحمدیہ کے صدر تھے تو قائد خدام الاحمدیہ لاہور نے مجھے کسی کام کے لئے ان کے پاس بھیجا۔میں ایوان محمود میں ملاقات کے لئے دفتر میں گیا اور کاغذ ان کے سپر د کئے۔گرمیوں کا موسم تھا اور دوپہر کا وقت تھا۔تو کاغذات لینے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ کھانا کھا لیا ہے ؟ میں نے کہا کہ ابھی کام سے فارغ ہو کر میں دارالضیافت میں جا کے کھاتا ہوں۔انہوں نے کہا نہیں میرے ساتھ چلو۔تھوڑی دیر بیٹھو۔ابھی انتظام ہو جائے گا۔تو کہتے ہیں میں سمجھا کہ یہیں ایوان محمود میں انتظام ہو جائے گا۔تھوڑی دیر بعد باہر آئے۔سائیکل نکالی اور پھر کہا کہ میرے پیچھے بیٹھو۔کہتے ہیں خیر چل پڑے۔میں نے راستے میں کہا کہ میں دارالضیافت چلا جاتا ہوں۔راستے میں دارالضیافت آتا ہے تو انہوں نے کہا نہیں پیچھے بیٹھے رہو۔سخت گرمی میں سائیکل پر گھر لے گئے اور اپنے گھر میں جا کے وہاں کھانا کھلایا اور پھر مجھے رخصت کیا۔جب صدر خدام الاحمدیہ تھے تو ہر خادم سے ان کا ذاتی طور پر بڑا تعلق تھا۔