خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 67
خطبات مسرور جلد 16 67 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 فروری 2018 ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ہمارے ابا نے پوری کوشش کی کہ خلافت کے وفادار رہیں اور ہمیں بھی یہی نصیحت کی۔کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ابا نے مجھے بہت تڑپ سے دعا کے لئے کہا بلکہ کئی دن کہتے رہے۔مجھے نہیں پتا کہ معاملہ کیا تھا؟ لیکن بہر حال یہ تاثر تھا کہ خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی ہلکی سی ناراضگی کا معاملہ ہے جس کی وجہ سے ابا کی نمازوں میں اتنی تڑپ ہوتی تھی جس کا میرے ذہن پر بھی اثر ہوا اور میری کیفیت بھی ویسی ہی ہو گئی۔پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہجرت ہوئی ہے اُس وقت ان کی والدہ صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بہت بیمار تھیں اور کافی حالت خراب تھی اور جس رات ہجرت تھی اس رات لگ رہا تھا کہ آج ان کی والدہ کی آخری رات ہے۔لیکن آپ وہاں جماعتی معاملات میں مصروف تھے۔ہجرت کے معاملات میں مصروف تھے۔اس لئے والدہ کے کمرے تک بھی نہیں گئے اور جماعتی کاموں میں مصروف رہے۔اسی طرح ان کا خلافت خامسہ میں میرے ساتھ بھی ہمیشہ اطاعت کا، وفا کا تعلق رہا ہے۔بلکہ اپنے بیٹے کو پوچھنے پر یہی کہا تم دیکھتے نہیں خلافت کی صداقت کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کس طرح خلافت خامسہ کے ساتھ ہیں۔ان کے ایک بیٹے لکھتے ہیں کہ ہمیں نماز پر جگایا کرتے تھے۔عام طور پر ذرا سخت تھے لیکن آخری دنوں میں اتنے درد سے جگاتے کہ اس سے شفقت ظاہر ہوتی۔جو بھی ان کو اور ان کی اہلیہ کو خلفاء کے خطوط آئے ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ان تمام خطوط کی کاپیاں بنا کے اور فائل بنا کے ہم تمام بچوں کے سپر د کر دیں کہ یہ ہماری عمر کا اثاثہ ہے۔ان خطوط کو اپنے پاس رکھنا۔مرزا انس احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب ان کی وفات ہوئی ہے میں خواب دیکھ رہا تھا کہ بھائی خورشید اور میاں احمد اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے ہیں اور ان کی ملاقات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہو رہی ہے اور کہتے ہیں کہ اُس وقت خواب میں میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کرے میری ملاقات بھی اسی طرح ہو جائے۔سو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ ! مجھے بھی اپنے قرب میں بلا لے۔تو پھر اللہ نے فرمایا کہ تم آگے آجاؤ۔کہتے ہیں میاں احمد سے میرا پرانا تعلق تھا اور تقریباً ہم عمر تھے۔ان کی نیکیوں کو دیکھتا ہوں تو شر مندہ ہو تا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسا موقع دے۔کہتے ہیں کبھی کسی بات پر مجھ سے ناراض ہو جاتے تو ہمیشہ وہ مجھے معاف کرنے میں پہل کرتے تھے۔پھر اسی طرح انہوں نے ان کی نمازوں کی حالت کے بارے میں لکھا ہے کہ جب ان کو نماز پڑھتے دیکھتا تو ایسی رفت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے کہ مجھے رشک آتا تھا۔انتہائی ذہین، ذمہ دار تھے۔پنجوقتہ نماز کے لئے مسجد میں جانا، غرباء کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا، اپنی قوتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق انہوں نے پائی۔چوہدری حمید اللہ صاحب نے بھی یہی لکھا کہ بڑے معاملہ فہم اور صائب الرائے تھے اور اکثر اوقات مشورے کی مجالس میں آپ کی رائے ہی فیصلہ کن ہوتی تھی۔سلسلہ کے لٹریچر اور تاریخ سے گہری واقفیت تھی۔جب بھی موقع پیش آتا سلسلہ کی خدمت میں آگے ہوتے۔74ء کے فسادات میں کئی ماہ تک حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی بھر پور معاونت کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے بیرون ملک دوروں میں شریک سفر ہوئے۔ایک