خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 66
خطبات مسرور جلد 16 66 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 ان کے حصہ میں سندھ آیا۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ واپس آئے تو لنگڑا کر چل رہے تھے۔میں نے پوچھا۔تو انہوں نے کہا کہ ایک گھر کی سیڑھی سے گر گیا تھا۔جب فضل عمر ہسپتال میں دکھایا گیا تو پاؤں کی چھوٹی انگلی کی ہڈی کر یک (crack) تھی اور دوسرے پاؤں کے ٹخنہ میں بھی ذرا سا، ہلکا سا کر یک (crack) آیا ہوا تھا یا چوٹ تھی۔ہلکا سا فریکچر تھا۔کہتی ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو درد نہیں ہوتی تھی۔کہنے لگے درد تو محسوس ہوتی تھی لیکن کیونکہ خلیفہ وقت کا پیغام گھر گھر پہنچانا تھا اس لئے گیارہ دنوں میں اس تکلیف کا احساس نہیں کیا اور اپنا کام ختم کر کے آئے۔ان کے بڑے بیٹے لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہجرت کے بعد حضور کے خطبہ کی کیسٹ سب سے پہلے آپ کے پاس آتی تھی اور بڑے اہتمام سے آپ سب کو اکٹھا کرتے اور حضور کا خطبہ سناتے تھے۔پھر ایم ٹی اے آنے کے بعد بھی خطبات سنے کا خاص اہتمام کرتے تھے اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ سب گھر والے یہ خطبہ سنیں۔حتی کہ جو گھر میں کام کرنے والے افراد ہیں یا باہر ملازم ہیں ان کو سنانے کے لئے بھی انہوں نے خاص اہتمام کیا ہوا تھا۔لاؤڈ سپیکر لگایا ہوا تھا یا ٹی وی لگا کے دیا ہوا تھا۔جب یہ لاہور گئے ہیں تو وہاں کا ایک واقعہ ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ جب رات میو ہسپتال گئے تو وہاں پر بہت رش تھا اور ایمبولینس والے منہ مانگی قیمت مانگ رہے تھے۔تو وہاں انہوں نے اونچی آواز میں اعلان کیا کہ سب انتظام صدر انجمن احمد یہ کرے گی۔سب کی تدفین ربوہ میں ہو گی۔سارے جنازے وہاں لے کے جائیں گے انشاء اللہ اور کوئی آبائی جگہ لے کر جانا چاہتا ہے تو اسے اجازت ہے۔بہر حال اس سے لوگوں میں کافی اطمینان پیدا ہوا۔ہر زخمی کے گھر میں گئے۔شہداء کے گھروں میں گئے۔ان کے گھروں میں کھانے کا انتظام کروایا۔اگر کوئی کمانے والے نہیں تھا تو ان کے لئے انتظام کروایا۔اُس وقت بعض اطلاعات تھیں کہ بعض لوگ ان کے پیچھے ہیں اور ایجنسیوں کی طرف سے اطلاع تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو ان کو وہاں سے واپس بلایا گیا۔لیکن 28 / مئی سے جو اگلا جمعہ تھا یہ پھر وہاں گئے اور وہیں دارالذکر میں جا کر انہوں نے خود جمعہ پڑھایا تا کہ جماعت کے لوگوں کو بھی حوصلہ رہے۔غریبوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔پرانے دوستوں کا خیال رکھتے تھے۔ان کے بچپن کے ایک کلاس فیلو تھے جو پڑھائی پوری نہیں کر سکے اور انہوں نے گھروں میں رنگوں کا، رنگ پینٹ (paint) کا کام شروع کر دیا، اس کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد اس کے بچوں کا خیال رکھا۔1989ء میں جب یہ گرفتار ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہو رہا تھا اور اس وقت مرزا خورشید احمد صاحب ناظر امور عامہ تھے۔وہ ربوہ سے باہر تھے۔یہ ان کے قائمقام تھے۔مجسٹریٹ نے ان کو بلایا اور حکم دیا کہ اجتماع بند کرو۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے ہمیں اجتماع کرنے کی تحریری اجازت دی ہے اب بند کرنے کی بھی تحریری اجازت دے دیں۔ہم بند کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا زبانی حکم ہے۔تم بند کرو۔انہوں نے کہا پھر زبانی پر ہم بند نہیں کریں گے۔خیر شام کو مرزا خورشید احمد صاحب بھی آگئے۔ان کو بلایا۔انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔جس کے نتیجہ میں جیسا کہ میں نے کہا کہ انہوں نے چند دن اسیری میں گزارے۔ان کو گرفتار کر لیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔