خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 65

خطبات مسرور جلد 16 65 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 نے فرمایا تھا کہ یہ ہر خلافت کے وفادار ہیں اور میرے وفادار ہیں۔جب حضور کی انگوٹھی گمی تو اس کو تلاش کرنے کے لئے انہی کو بلایا اور یہ کہا کرتے تھے کہ پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے میر انام لیا۔احمد اور پھر خورشید یہ دونوں میرے وفاداروں میں سے ہیں اور ہر خلافت کے وفاداروں میں سے ہیں۔پھر ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ رات کے نوافل میں اتنی گریہ وزاری ہوتی تھی کہ گھر گونج رہا ہوتا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے، خلیفہ وقت کے لئے، جماعت کے لئے ، ماں باپ کے لئے، بہن بھائیوں کے لئے ، بیوی بچوں کے لئے ، رشتہ داروں کے لئے دعائیں کرتے تھے اور اپنے نوافل میں سورۃ فاتحہ کی بعض آیات کئی کئی دفعہ دہراتے رہتے تھے۔کہتے ہیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت زیادہ تعلق تھا۔لیکن یہ تھا کہ نا انصافی نہیں تھی۔اپنے گھر والوں سے بیوی کی عزت کروائی اور بیوی کا تعلق گھر والوں سے قائم کیا۔یعنی دونوں رشتوں میں ایک توازن قائم رکھا۔چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی کوئی ان کو دیتا تو اس کی شکر گزاری کرتے۔یا تو اس کو تحفہ کے طور پر لوٹاتے یا گھر جاکے اس کا شکریہ ادا کرتے یا خط لکھ کے شکریہ ادا کرتے۔ایک خوبی یہ تھی کہ جو کام بھی سپر د کر وجب تک وہ سر انجام نہ دے لیتے چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔علم بھی بہت تھا۔یادداشت بھی ان کی خوب تھی۔کوئی روایت ہو، پر انارشتہ ہو، کہتی ہیں ان سے پوچھتی توان کو یاد ہو تا تھا۔اور کہتی ہیں کہ مجھے سیر وں کا شوق تھا تو مالی حالات چاہے اچھے ہوں یا نہ ہوں ، طبیعت ٹھیک ہو یا نہ ہو بیوی کا حق ادا کرنے کے لئے سیر وں پہ ضرور لے کر جاتے۔ان کی اہلیہ، میری ہمشیرہ نے ، لکھا ہے کہ عبد الرحمن انور صاحب کی بیوی بتاتی ہیں کہ عبد الرحمن انور صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ان کی والدہ کے گھر کے دروازے پر گلاب کی بہت ہی خوبصورت دو بیلیں چڑھ رہی ہیں جن میں بہت خوبصورت پھول لگے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ خواب تو سچی ہوئی۔ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ ہر آمد پر پہلے چندہ ادا کرتے تھے۔اس کے بعد اس کو خرچ میں لایا جاتا تھا۔ان کی اہلیہ کو بھی ہماری والدہ کی طرف سے یا والد کی طرف سے جو جائیداد سے حصہ ملا اس کی پہلے وصیت ادا کی، حصہ جائیداد ادا کیا۔اور جو آمد ہوتی تھی، اس کا حصہ جائیداد ادا کر دیتے تھے اور پھر مجھے بتاتے تھے کہ میں چندہ ادا کر آیا ہوں۔اس طرح انہوں نے میری ساری جائیداد کا چندہ چکا دیا اور مجھے کوئی بوجھ بھی نہیں پڑا۔بیٹے بیٹی کو گھر بنا کے دیا اور ان کی وصیت بھی خود اتار دی۔پھر بہت سارے لکھنے والوں نے مجھے لکھا اور میں بھی دیکھتا ہی رہتا تھا کہ یہ دونوں بھائی ہمیشہ وہاں اکٹھے ہوتے تھے۔ہماری ہمشیرہ یہی لکھتی ہیں کہ مرزا داؤد احمد صاحب کی اہلیہ کہا کرتی تھیں کہ احمد اور خورشید کو اگر دیکھ لوں کہ اکٹھے کہیں جا رہے ہیں تو مجھے لگتا تھا کوئی جماعتی مسئلہ ہو گیا ہے کہ یہ دونوں اکٹھے جا رہے ہیں۔ہر کرائسس (crisis) میں بڑے حوصلے سے ، ہمت سے، فہم سے، فراست سے کام کیا کرتے تھے۔خلافت کی اطاعت تو تھی۔یہاں جلسہ پہ آئے تھے تو کمزوری کافی تھی۔ان کو میں نے کہا سوٹی لیا کریں۔تو فوری طور پر انہوں نے سوٹی شروع کر دی کہ اب تو حکم مل گیا ہے اب لینی پڑے گی۔چھڑی استعمال کرنی پڑے گی۔چند سال قبل میں نے کہا تھا کہ ناظر ان جماعتوں میں جائیں اور ہر ایک گھر میں جاکے میر اسلام پہنچائیں۔