خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 64

خطبات مسرور جلد 16 64 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 عطا فرمائی اور بہت سے مسائل اس میں حل ہوئے۔اور باقی پھر لمبی خواب ہے اس میں ذکر ہے کہ کس طرح انہوں نے شادی بیاہ کے متعلق اور لڑکوں کی ملازمتوں کے لئے کہا کہ کیا تجویز میں ہونی چاہئیں۔خواب میں میاں احمد نے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو وہ بتائیں کہ آپ اس میں مدد کر سکتے ہیں۔(ماخوذ از الفضل انٹر نیشنل 19 تا 25 جنوری 2001ء صفحہ 5۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2000ء) ایک خط میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کو لکھا کہ عزیزم احمد سلمہ اللہ۔السلام علیکم۔آپ کی پریشانی کا خط ملا۔میں آپ کے لئے عاجزانہ دعا کر تا ہوں۔آپ کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے سچائی اور سعادت رکھی ہے اور ان دو صفات کے حامل انسان کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں فرماتا۔اللہ تعالیٰ آپ کو بیش از پیش روحانی ترقیات عطا فرما تار ہے اور طمانیت قلب کی جنت نصیب کرے۔اسی طرح ایک اور خط میں انہوں نے فرمایا کہ اپنی دعاؤں میں یا د ر کھتا ہوں۔آپ سب کا حق بھی ہے اور خدمت دین میں بھی میرے سلطان نصیر ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔صحت و سلامتی دے اور کبھی کوئی فکر اور پریشانی نہ آئے۔اور پھر لکھا کہ مجھے بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔میری شدید خواہش ہے کہ احمدیت کو لوگ بہت جلد قبول کریں۔پھر فرمایا کہ ایم ٹی اے کا ہتھیار بھی ساری دنیا میں چل رہا ہے اور میری خواہش کو عملی رنگ دے رہا ہے۔اچھے اچھے پروگرام بھجوائیں تا کہ نور ہی نور ہو جائے۔طاغوت اور شیطان رمضان میں پوری طرح جکڑ ا جائے۔ان کی اہلیہ امتہ القدوس صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جب بیمار تھے تو رات کو روزانہ وہاں جا کے ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔یہ رشتے سے پہلے کی بات ہے۔اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے زمانے میں بھی خلافت سے بہت وابستہ تھے۔حضور ان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور 1974ء میں کافی عرصہ ، یہ بھی اور مر زاخورشید احمد صاحب بھی، دن رات وہیں رہے۔اور گھر آنے کی اجازت نہیں تھی۔1973ء اور 74ء میں خاص طور پر اور بعد ازاں جب خدام الاحمدیہ کے صدر تھے اس وقت بھی یہ حضور کے ساتھ کام کرتے تھے۔ایک لمبا عرصہ تو گھر آتے ہی نہیں تھے۔پہلے بھی صبح کے گئے رات دس بجے کے قریب گھر آتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اعزاز سے نوازا کہ ایک اجتماع کے موقع پر جب انہوں نے درخواست کی کہ حضور عہد دہر وائیں گے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے فرمایا کہ تم دہراؤ۔یعنی صدر خدام الاحمدیہ کو کہا تم دہر اؤ اور پھر حکماً ان سے عہد دہر وایا۔اور حضور نے خود باقی خدام کی طرح کھڑے ہو کر پیچھے عہد دہرایا۔مرزا خورشید احمد صاحب کی وفات پر میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابح نے کہا تھا کہ یہ جو دو شخص ہیں وہ میرے بڑے وفادار ہیں اور ہر خلافت کے وفادار ہیں۔انہوں نے مجھے لکھا تھا لیکن مجھے زبانی بھی بتا چکے تھے۔اس وقت کیونکہ ان کو جھجھک تھی اس لئے اپنا نام نہیں لکھا تھا۔اس لئے میں نے بھی جمعہ پہ نہیں بتایا۔صرف مرزا خورشید احمد صاحب کا ہی بتایا۔اصل میں مرزا غلام احمد صاحب اور مرزا خورشید احمد صاحب کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع