خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد 16 63 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 احمد صاحب کو اور انجمن کے دو کارکنان کو C 298 کے تحت چند دن اسیر راہ مولی رہنے کی بھی سعادت ملی۔لاہور میں 28 مئی 2010ء کا جو واقعہ ہوا تھا جہاں احمدیوں کی بہت ساری شہاد تیں ہوئی تھیں۔اس وقت ناظر اعلیٰ نے لاہور جماعت کی تسلی کے لئے، شہداء کی فیملیز کو ملنے کے لئے، مریضوں کو دیکھنے کے لئے جو وفد فوری طور پہ لاہور بھجوایا تھا ان کے امیر مرزا غلام احمد صاحب تھے۔شہداء کو ابھی ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ یہ لا لاہور پہنچ گئے تھے اور اگلے تقریباً دو ہفتے تک انہوں نے لاہور میں ہی قیام کیا اور لاہور کے جو انتظامات تھے ان کی خود نگرانی کرتے رہے۔دارالذکر میں یہ وفد گیا اور بڑی فراست اور محنت سے انہوں نے تمام کام سر انجام دیئے اور زخمیوں کے علاج کی نگرانی بھی کرتے رہے اور شہداء کی فیملیوں کے گھروں میں بھی گئے۔دارالذکر میں اسی دن عاملہ کا اجلاس بلایا اور نئے امیر کا بھی وہاں اعلان کیا۔مغرب عشاء کی نمازیں آپ نے وہیں پڑھائیں تاکہ لوگوں کو یہ حوصلہ رہے کہ واقعہ ہونے کے بعد یہ نہیں کہ مسجد خالی کر دینی ہے۔اور جب یہ ہسپتال میں مریضوں کو پوچھنے کے لئے گئے تھے تو اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر صاحب وہاں آئے۔انہوں نے تعزیت کی۔مرزا غلام احمد صاحب نے ان کی اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ جو حملہ ہوا ہے وہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر ہو رہی ہے اور بحیثیت گورنر آپ کا فرض ہے کہ اس طرف توجہ دیں۔اسی طرح جاوید مائیکل صاحب جو اقلیتی امور کے صوبائی وزیر تھے وہ بھی تعزیت کرنے کے لئے آئے۔یہاں بھی انہوں نے بڑی بہادری سے وزیر موصوف کو کہا کہ آپ تعزیت کے لئے آئے ہیں اس کے لئے ہم آپ کے مشکور ہیں۔لیکن یہ بات واضح رہے کہ ہم خود کو اقلیت ہر گز نہیں مانتے۔ہم مسلمان ہیں۔جس پر وزیر نے عرض کیا کہ دراصل میں انسانی حقوق کا بھی وزیر ہوں اور میں اس لحاظ سے بھی آیا ہوں۔آپ نے ان کو کہا کہ اپنی کابینہ میں آپ کو آواز اٹھانی چاہئے اور جماعت کے خلاف جو مہم ہے حکومت کو اس کو ختم کرنا چاہئے۔لیکن بہر حال یہ تو ان کو ان کے فرائض کی طرف ایک توجہ دلائی تھی۔اصل تو ہماری نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہی ہے اور اسی نے یہ حالات ٹھیک کرنے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ۔29 اور 30 مئی کو انہوں نے یہاں پر یس کا نفرنس بھی کی۔12جون کے ایکسپریس نیوز کے لائیو پروگرام میں پوائنٹ بلینک میں رات گیارہ بجے سے بارہ بجے تک انہوں نے شرکت کی۔سوئس نیشنل ٹی وی اور بی بی سی اور وائس آف امریکہ اور صحاراٹی وی چینل فائیو اور دنیائی وی وغیرہ سب کو انٹر ویو دیا۔بہر حال یہ وفد پھر 12 جون تک وہاں رہا اور واپس آگیا۔اس میں انہوں نے بڑا واضح طور پر ان کو کہا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور کوئی ہمارے سے ہمارا مسلمان ہونا نہیں چھین سکتا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اپنے ایک خطبہ میں اپنی ایک رؤیا سنائی تھی اور اس میں انہوں نے ان کا جو ذکر کیا وہ یہ تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع کہتے ہیں کہ میں سوچ رہا تھا کہ مجھے اپنی مصروفیتیں بڑھانی چاہئیں تو رات کو خواب میں میاں احمد کو دیکھا۔مرزا غلام احمد صاحب کو دیکھا جو ہمیشہ بہت اچھا مشورہ دیا کرتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے متعلق بھی انہی کا مشورہ تھا کہ بجائے اس کے کہ تفسیر صغیر کے پیچھے نوٹس لکھوں۔میں اپنا نیا ترجمہ کروں اور آپ فرماتے ہیں کہ الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اس ترجمہ کی توفیق