خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 62
خطبات مسرور جلد 16 62 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 کہہ کر پکاریں گے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا اور میرے لئے بہت مشکل ہے کہ میں غلام احمد کر کے نام لوں۔1964ء میں میری ہمشیرہ کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھایا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی تو ان دنوں میں بیمار تھے۔ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔اور دو بیٹے وقف زندگی ہیں۔مرزا فضل احمد ربوہ میں ناظر تعلیم ہیں اور مرزاناصر انعام یہاں یو کے کے جامعہ کے پرنسپل ہیں۔اور مرزا احسان احمد جو ہیں وہ امریکہ میں ہیں۔گو دنیاوی نوکری ہے لیکن وہاں بھی جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔نیشنل مجلس عاملہ میں سیکرٹری مال ہیں۔اسی طرح افسر جلسہ گاہ ہیں۔ان کی ایک بیٹی امتہ الولی زیدہ ہیں۔دوسری امتہ العلی زہر اہیں جو میر محمود احمد صاحب، یہ میر مسعود احمد صاحب کے بیٹے ہیں، ان کی بیوی ہیں اور وہ بھی وقف زندگی ہیں اور آجکل ناظر صحت ہیں۔مرزا غلام احمد صاحب کی جو خدمات ہیں انہوں نے ناظر تعلیم کے طور پر کام کیا۔کئی سال ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد مقامی کے طور پر کام کیا۔ناظر دیوان کے طور پر کام کیا بلکہ جب تک ناظر اعلیٰ نہیں بنائے گئے تھے یہ 96ء سے لے کے 2018ء تک ناظر دیوان کے طور پر رہے۔پھر یہ صدر مجلس کار پرداز کے طور پر بھی 2012ء سے 2018ء تک تھے۔پھر مرزا خورشید احمد کی وفات کے بعد ان کو میں نے ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی اور صدر صدر انجمن احمد یہ بنایا۔اس سے پہلے خلافت رابعہ میں بھی کئی دفعہ ان کو قائمقام ناظر اعلیٰ اور قائمقام امیر مقامی بننے کی توفیق ملی۔اسی طرح مجلس وقف جدید کے ممبر تھے اور 2016ء سے 18 ء تک یہ صدر مجلس وقف جدید بھی رہے۔انصار اللہ میں عاملہ میں رہے۔مختلف قیادتیں ان کے سپر در ہیں۔پھر نائب صدر صف دوم بھی رہے۔پھر نائب صدر بنے۔پھر 2004ء سے لے کے 2009ء تک صدر انصار اللہ پاکستان خدمت کی توفیق ملی۔خدام الاحمدیہ میں مختلف سالوں میں مہتمم کے طور پر کام کیا۔پھر نائب صدر خدام الاحمدیہ مرکز یہ رہے۔اس کے بعد پھر 75 ء سے 79ء تک صدر خدام الاحمدیہ مرکز یہ بھی رہے۔اور میر داؤد احمد صاحب کے بعد ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز بھی ہوئے۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث " کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔خلافت لائبریری کمیٹی کے صدر تھے۔بیوت الحمد سوسائٹی ربوہ کے صدر تھے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر تھے۔اسی طرح جلسہ سالانہ میں ان کو کئی سال خدمت کی توفیق ملی۔ڈیوٹیاں دیتے رہے۔جب تک ربوہ میں جلسے ہوتے رہے یہ بطور نائب افسر جلسہ سالانہ اور ناظم محنت رہے۔ناظم محنت کا بڑا محنت طلب کام ہو تا ہے اور ایسی لیبر سے واسطہ ہوتا ہے جو غیر احمدی بھی ہوتی ہے اور روٹی پکانے والے نانبائی اور پیڑے والے بگڑے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ان کو صحیح طرح قابورکھنا جلسے کا ایک بڑا کام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو بڑے احسن رنگ میں اس خدمت کی توفیق ملی۔تبرکات کمیٹی کے صدر رہے۔رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کمیٹی کے ممبر تھے۔مجلس افتاء کے ممبر تھے۔تاریخ احمدیت کمیٹی کے ممبر تھے۔سیکرٹری خلافت کمیٹی تھے۔نگران مینیجنگ ڈائریکٹر الشرکۃ الاسلامیہ بھی رہے۔نظارت کے ساتھ ساتھ یہ بہت سارے کام اور کمیٹیاں بھی ان کے سپر د تھیں۔1989ء میں ان کو اور مرزا خورشید