خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد 16 61 خطبه جمعه فرموده مورخه 09 فروری 2018 صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے بیٹے تھے ان کے پوتے تھے۔حضرت مرزا عزیز احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے۔اور حضرت میر محمد اسحق صاحب کے نواسے تھے۔اور میرے بہنوئی بھی تھے۔ان کی والدہ صاحبزادی نصیرہ بیگم حضرت میر محمد اسحق صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔یہ تمام رشتے اتنے قابل ذکر نہیں۔اصل میں ان رشتوں کو جو چیز قابل ذکر بناتی ہے وہ ان کے اوصاف ہیں جو میں بیان کروں گا۔خادم دین تھے۔وقف زندگی تھے۔اور ان دنوں میں باوجود کمزوری کے ، بیماری کے اور بڑے بھائی کی وفات ہوئی تھی اس کے اثر کے باوجود جب میں نے ان کو ناظر اعلیٰ مقرر کیا تو تمام فرائض بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔دفتر میں حاضر رہے۔اسی طرح فنکشنوں پر بھی حاضر ہوتے رہے۔ایک دن پہلے مدرستہ الحفظ کا فنکشن تھا۔کامیاب ہونے والے حفاظ میں اسناد تقسیم کرنی تھیں۔وہاں شرکت کی۔شام کو خدام الاحمدیہ کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔وفات والے دن بھی صبح کئی لوگوں کے گھروں میں گئے۔مریضوں کی عیادت کی۔پھر اسی طرح پانچوں نمازیں مسجد مبارک میں جا کے ادا کیں۔وقف زندگی کی حیثیت سے ان کی زندگی کا آغاز مئی 1962ء میں ہوا ہے۔انہوں نے ایم۔اے پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ کالج لاہور سے کی اور پھر انہوں نے پبلک سروس کمیشن کا، CSS کا امتحان دیا اور اس میں کامیاب ہوئے۔بڑی اچھی طرح کامیاب ہوئے بلکہ انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میں نے یہ امتحان صرف اس لئے دیا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ یہ بڑا مشکل امتحان ہوتا ہے اور بڑی مشکل سے کامیابی ہوتی ہے۔تا کہ دنیاوی لحاظ سے بھی کامیاب ہونے کے بعد پھر میں وقف کروں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ کہیں اور جگہ نہیں ملی تو یہاں آگئے۔اس کامیابی کے باوجو د سرکاری نوکری نہیں کی۔پبلک سروس کمیشن میں نہیں گئے اور زندگی وقف کی۔جیسا کہ میں نے کہا 1962ء میں انہوں نے زندگی وقف کی۔پھر ان کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بطور مینیجنگ ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ربوہ کی خدمت سپرد کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان کو یہ بھی فرمایا کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ جو تم نے حاصل کرلی ہے دینی تعلیم بھی حاصل کرو۔چنانچہ حضرت سید میر داؤد احمد صاحب سے انہوں نے حدیث اور دینی علوم حاصل کئے۔حضرت میر داؤد احمد صاحب ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے اور رشتہ میں ان کے ماموں بھی تھے۔ان کا پہلا نام مرزا سعید احمد تھا۔بعد میں حضرت مصلح موعودؓ نے ان کی والدہ کے کہنے پر ان کا نام مرزا غلام احمد رکھا۔انہوں نے سیرۃ المہدی میں کوئی واقعہ پڑھا تھا اور اس لحاظ سے ان کا خیال تھا کہ مرزا سعید احمد نام نہ رکھا جائے۔مرزا سعید احمد ان کی پہلی والدہ سے ان کے بھائی تھے جن کی جوانی میں وفات ہو گئی تھی۔یہاں یو کے میں بھی آکے وہ پڑھتے رہے۔مرزا مظفر احمد صاحب وغیرہ کے کلاس فیلو تھے۔حضرت مصلح موعودؓ کو انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کوئی نام بدلا تو حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کو رنج ہو گا تو ان کی بھی تسلی ہو جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر ہم ایسا نام رکھتے ہیں جس وجہ سے اُن کے والد کو بھی تکلیف نہ ہو اور پھر آپ نے مرزا غلام احمد نام رکھا اور ساتھ ہی حضرت مصلح موعودؓ نے یہ فرمایا کہ ہم اس کو احمد