خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 58

خطبات مسرور جلد 16 58 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 اس کا مقام دُور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔" چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 118 حاشیہ) پس یہ وہ عظیم خدا ہے جس کی عظمت کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور جس کی حدود لا محدود ہیں۔اس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔اس کی کوئی حد نہیں ہے۔اور ہر چیز اس کے احاطے میں ہے۔ہر چیز کو اس نے گھیر اہوا ہے۔پس جب انسان کو ان باتوں کی سمجھ ہو گی اور یہ سمجھ کر انسان آیات پڑھے تو تبھی اللہ تعالیٰ کی آغوش میں آسکتا ہے۔اس کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کرنی چاہیئے۔اور جب یہ حقوق ادا ہو رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی پھر حفاظت فرماتا چلا جاتا ہے۔پس یہ مضمون ہے جسے ہمیں اپنے سامنے رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ تلقین فرمائی ہے کہ جو یہ آیات پڑھے وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا۔تو آیات صرف پڑھنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون پر غور کرتے ہوئے ان باتوں کو اپنانے کی بھی ضرورت ہے اور وہ فہم اور ادراک حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے جو ان آیتوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قرآن کریم نے اس کی وضاحت کئی جگہ پر کی۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا۔اگر یہ باتیں ہوں گی تو پھر انسان خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کی حفاظت میں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔نماز کے بعد آج بھی میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو عابدہ بیگم صاحبہ اہلیہ پروفیسر عبد القادر ڈاہری صاحب کا ہے۔یہ نوابشاہ کی رہنے والی تھیں۔22 جنوری کو 75 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے والد کا نام نیاز محمد خان تھا۔یہ سرکاری افسر تھے۔پہلے وہاں مشرقی پاکستان میں ، پھر کراچی میں بھی چیف کمشنر رہے۔لیکن یہ احمدی نہیں تھے۔عابدہ بیگم کی والدہ احمدی تھیں اور اولاد میں سے عابدہ بیگم جو ہیں یہ احمدی ہوئیں اور انہوں نے 1963ء میں بیعت کی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے وصیت بھی کی۔اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ہی ان کی شادی تعلیم مکمل کرنے، بی۔اے کرنے کے بعد پروفیسر عبد القادر ڈاہری صاحب سے کروائی۔ان کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹے سے نوازا۔نوابشاہ شہر کی صدر لجنہ رہیں۔پھر لمبا عرصہ صدر لجنہ ضلع نوابشاہ رہیں اور کافی خدمت کا موقع ملا۔صدارت کے دوران میٹنگز کے انعقاد میں لجنہ کے ساتھ بھر پور رابطہ رکھا۔ضلع کے دورے بڑے دُور دُور کے علاقوں میں کرتی رہیں۔گو متمول گھرانے سے تعلق تھا لیکن خود انتہائی سادہ مزاج تھیں۔کمزوروں اور غریبوں کی مدد کرتیں اور کمزور احمدی گھرانے جو تھے اُن میں ضرور جایا کرتی تھیں۔تبلیغ کا ان کو بڑا شوق تھا۔نوابشاہ سے انہوں نے تقریباً کوئی سترہ عورتوں کو تبلیغ کر کے بیعت کروائی۔گھر کے آس پاس رہنے والے بچوں کو قرآن کریم بھی پڑھاتی تھیں۔ان کے شوہر کو سندھی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔وہ نوابشاہ شہر کے امیر بھی رہے اور پھر ضلع نوابشاہ کے امیر بھی بنے۔آجکل اُن کے بیٹے امیر ضلع ہیں۔بچوں کو انہوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔انتہائی عباد تگزار، نڈر، بہادر، انتہائی