خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد 16 57 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 میں ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم قرآن اور حدیث پر عمل کرنے والے ہیں۔بہر حال یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ حقیقی شفاعت کا حق اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا اور اس کے نظارے آپ کی زندگی میں ہم نے دیکھے۔چنانچہ اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: " آخرت کا شفیع وہ ثابت ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں شفاعت کا کوئی نمونہ دکھلایا ہو۔" آخرت میں بھی وہی شفیع ہو گا۔یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے کہ وہ شفاعت کریں گے کہ وہی ثابت ہو سکتا ہے جس نے دنیا میں بھی کوئی شفاعت کا نمونہ دکھلایا ہو۔" سو اس معیار کو آگے رکھ کر جب ہم موسیٰ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی شفیع ثابت ہو تا ہے کیونکہ بارہا اس نے اترتا ہو ا عذاب دعا سے ٹال دیا۔اس کی توریت گواہ ہے۔اسی طرح جب ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کا شفیع ہونا اجلی بدیهیات معلوم ہو تا ہے۔" یعنی بہت واضح اور صاف طور پر ، روشن طور پر نظر آتا ہے۔کیونکہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ آپ نے غریب صحابہ کو تخت پر بٹھا دیا۔اور آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ وہ لوگ باوجود اس کے کہ بت پرستی اور شرک میں نشو نما پایا تھا ایسے موحد ہو گئے جن کی نظیر کسی زمانے میں نہیں ماتی۔اور پھر آپ کی شفاعت کا ہی اثر ہے کہ اب تک آپ کی پیروی کرنے والے خدا کا سچا الہام پاتے ہیں۔خدا ان سے ہمکلام ہوتا ہے۔مگر مسیح ابن مریم میں یہ تمام ثبوت کیونکر اور کہاں سے مل سکتے ہیں۔" فرمایا کہ "ہمارے سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پر اس سے بڑھ کر اور زبر دست شہادت کیا ہو گی کہ ہم اس جناب کے واسطے سے جو کچھ خدا سے پاتے ہیں ہمارے دشمن وہ نہیں پاسکتے۔اگر ہمارے مخالف اس امتحان کی طرف آویں تو چند روز میں فیصلہ ہو سکتا ہے۔" ( عصمت انبیاء ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 699-700) پھر آیتہ الکرسی کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی جو دو صفات بیان کی گئی ہیں یعنی علی۔انتہائی بلند شان والا اور اس سے بلند کسی کی شان نہیں ہے۔وہی زمین و آسمان کا مالک ہے۔اور وہ عظیم ہے۔اس کی عظمت اور بڑائی اور بلند شان کا وہ مقام ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اس کی بلندشان ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔کوئی چیز اس کے دائرے اور احاطے سے باہر نہیں ہے۔علیق ہونا یہ اس کی بلندشان ہے۔اور عظیم ہونا اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کی عظمت اور بڑائی اور بلندشان کا مقام ہے جس تک کوئی پہنچ نہیں سکتا۔یہ عظیم ہونے کے معنی ہیں۔اور عظیم ہونے کے یہ بھی معنی ہیں کہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔کوئی چیز اس کے دائرے اور احاطے سے باہر نہیں ہے۔یہ ہے اس کی عظمت اور بلندی۔اس آیت کے آخری حصہ کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: "خدا تعالیٰ کی کرسی کے بارے میں یہ آیت ہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرة: 256 ) یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ ان سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے۔اور وہ نہایت بلند ہے۔کوئی عقل اس کی کنہ تک پہنچ نہیں سکتی۔اور نہایت بڑا ہے۔اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں۔یہ ہے ذکر کر سی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلا نا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے