خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 59

خطبات مسرور جلد 16 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 صابر و شاکر اور سادہ طبیعت کی مالک تھیں۔فدائی اور باوفا خاتون تھیں۔جماعت اور خلافت کے ساتھ انتہائی محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ خلیفتہ المسیح کی رہنمائی ہر کام میں حاصل کرنے کی کوشش کرتیں۔یہاں تک کہ دو سال قبل شدید بیمار ہو گئیں اور شوگر کی وجہ سے ٹانگ میں ایساز خم تھا کہ ٹانگ کاٹنے کی ضرورت تھی۔تو انہوں نے کہا جب تک خلیفہ وقت سے اجازت نہیں ملے گی میں آپریشن نہیں کرواؤں گی اور کئی دن اس انتظار میں رہیں اور جب تک انہوں نے مجھ سے یہاں سے اجازت لے نہیں لی ٹانگ نہیں کٹوائی۔اس کے بعد انہوں نے کہا اب بیشک جو مرضی کرو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کے بعد باوجود عورت ہونے کے ان کی ثابت قدمی کا یہ حال تھا کہ یہ اور ان کی والدہ احمدی تھیں تو والدہ کی وفات کے بعد ان کے بھائیوں نے کہیں غیر احمدیوں کے ہی کسی قبرستان میں ان کی تدفین کروادی۔والدہ چونکہ موصیہ تھیں۔انہوں نے بھائیوں کے دباؤ کے باوجود وہاں سے نعش نکلوائی اور پھر اپنی والدہ کی نعش کو ربوہ لے کر آئیں اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کروائی۔اللہ کے فضل سے ہر معاملے میں حکمت سے کام کرنے والی تھیں۔قادیان اور یو کے کے جلسہ میں با قاعدہ شامل ہوتی تھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ان کے بارے میں ان کے بیٹے کو ایک دفعہ کہا کہ تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری والدہ احمدیت کے لئے ایک ننگی تلوار ہے۔85ء میں جب ضیاء آرڈینس کے بعد کلمہ مٹایا جار ہا تھا تو کلمہ سے محبت کا ثبوت انہوں نے اس طرح دیا کہ جب جماعت کو کہا گیا کہ اپنے گھروں میں کلمہ لکھیں تو سیڑھی لگا کر خود ٹینکی پر چڑھ کر اپنے ہاتھ سے کلمہ لکھ دیا۔حالانکہ ایک تو خاتون تھیں دوسرے ایسے خاندان کی تھیں جو عموماً ان باتوں کا بڑ الحاظ رکھتے ہیں۔جاتے جاتے بھی جو اُن کے آخری دن تھے۔ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ وفات سے کچھ دیر پہلے سانس لینے میں دقت تھی تو کچھ پیسے ان کے ہاتھ میں دیئے کہ وقف جدید اور تحریک جدید کا بقایا چندہ ہے یہ فوری ادا کرو۔ڈش لگوانے کے لئے انہوں نے وہاں احمدی گھروں کے لئے ایک سکیم اس طرح شروع کی کہ کمیٹی لجنہ کی ڈالی اور ہر مہینہ کسی نہ کسی کی کمیٹی نکلتی تھی تو اس سے ہر گھر میں ڈش لگ جاتا تھا اور اس سے خطبہ سننے کا انتظام ہو جاتا تھا۔ان کے داماد مرزا احسن عمران آسٹریلیا کے جماعت کے عہدیدار ہیں وہ بھی لکھتے ہیں کہ بڑی نڈر اور بہادر اور احمدیت کے لئے ہر وقت قربانی کے لئے تیار رہتی تھیں۔تلاوت اور خطبات انتہائی باقاعدگی سے کرتی اور سنتی تھیں۔باوجود اس کے کہ ان کو سندھی زبان نہیں آتی تھی بلکہ اردو بھی صحیح طرح نہیں آتی تھی۔سرکاری افسر کی بیٹی ہونے کی وجہ سے پہلے ایسٹ پاکستان میں رہیں پھر دوسری جگہوں پر رہیں اور انگریزی سکولوں میں پڑھیں۔انگلش زبان ان کی بہت اچھی تھی لیکن انہوں نے شادی کے بعد اپنے ماحول میں اپنے آپ کو ایڈ جسٹ (adjust) کیا اور اس ماحول میں رہ کر سندھی زبان بھی سیکھی اور اپنے غیر احمدی سندھی رشتہ داروں کو تبلیغ بھی کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔درجات بلند کرے۔اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 فروری 2018ء تا01 مارچ 2018ء جلد 25 شماره 08 صفحہ 0905)