خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد 16 56 خطبه جمعه فرموده مور محد 02 فروری 2018 " اس لئے ضروری ہوا کہ خدا سے طاقت طلب کرتے رہیں اور یہی استغفار ہے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 217) استغفار کے مضمون کی وضاحت پہلے تفصیل سے ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیض کی روشنی کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے استغفار کی ضرورت ہے اور یہ استغفار ہی عبادت ہے اور اس سے طاقت عطا ہوتی ہے۔پھر آیتہ الکرسی میں جو شفاعت کا مضمون بیان ہو ا ہے اس کو بیان فرماتے ہوئے یہ نکتہ آپ نے بیان فرمایا کہ ہر انسان دوسرے کے لئے جب دعا کرتا ہے تو یہ بھی ایک طرح کی شفاعت ہے۔اور یہ ایک مومن کی صفت ہونی چاہئے جو ہمیشہ وہ کرتا رہے۔آپ فرماتے ہیں: "خدا کے اذن کے سوا کوئی شفاعت نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔" قرآن شریف کی رُو سے شفاعت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کے لئے دعا کرے کہ وہ مطلب اس کو حاصل ہو جائے یا کوئی بلاٹل جائے۔یعنی جس مقصد کے لئے کسی دعا کے لئے کہا ہے اس کے لئے دعا کرے کہ وہ مقصد اس کا پورا ہو جائے۔اگر مصیبت اور بلا ہے تو وہ بلائل جائے۔فرمایا کہ " پس قرآن شریف کا حکم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کے حضور میں زیادہ جھکا ہوا ہے وہ اپنے کمزور بھائی کے لئے دعا کرے کہ اس کو وہ مر تبہ حاصل ہو۔یہی حقیقت شفاعت ہے۔سو ہم اپنے بھائیوں کے لئے بیشک دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو قوت دے اور ان کی بلا دور کرے اور یہ ایک ہمدردی کی قسم ہے۔" نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 463) آپس میں ہمدردی کی برکت: پھر آپ نے فرمایا کہ "چونکہ تمام انسان ایک جسم کی طرح ہیں اس لئے خدا نے ہمیں بار بار سکھلایا ہے کہ اگر چہ شفاعت کو قبول کرنا اس کا کام ہے مگر تم اپنے بھائیوں کی شفاعت میں یعنی ان کے لئے دعا کرنے میں لگے رہو۔اور شفاعت سے یعنی ہمدردی کی دعا سے باز نہ رہو کہ تمہارا ایک دوسرے پر حق ہے۔" ایک دوسرے کے لئے دعا کرنا ایک دوسرے پر حق ہے۔" اصل میں شفاعت کا لفظ شفع سے لیا گیا ہے۔شفع جفت کو کہتے ہیں جو طاق کی ضد ہے۔پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا جفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے جیسا کہ اپنے نفس کے لئے۔اور یاد رہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو۔" انتہائی ہمدردی ہونی چاہئے ایک دوسرے کے لئے۔فرمایا بلکہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔" (نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 464) یہ ایک نکتہ ہے جسے آیتہ الکرسی پڑھتے وقت ہم سامنے رکھیں تو بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے جذبات بڑھیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ پڑھنے کی تلقین فرمائی تو اس میں ایمان لانے والوں کے آپس کے ہمدردی کے تعلقات قائم کرنے کے لئے بالخصوص ارشاد ہے اور بنی نوع انسان کے لئے بالعموم توجہ دلائی ہے کہ ہر ایک کے لئے ہمدردی کا جذبہ تمہارے دل میں ہونا چاہئے۔لیکن بد قسمتی ہے کہ مسلمان آجکل آپس