خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 637
خطبات مسرور جلد 16 637 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 اپنے کئی شاگردوں کے ہمراہ موجود تھے جن کو مرحوم نادر الحصنی صاحب اور ان کے بھائیوں کے احمد کی ہونے کا پتہ تھا۔اس پر ان لوگوں نے احمدیوں اور دیگر مولویوں کے درمیان اختلافی امور کا ذکر کر نا شروع کر دیا۔جب ان میں سے ایک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے تو میرے ماموں مرحوم نادر الحصنی صاحب جوش سے کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ اگر تم میں سے کسی میں ہمت ہے تو میرے ساتھ مناظرہ کر لو حالانکہ یہ تین بھائی تھے اور شیخ البانی صاحب کے ساتھیوں کی تعداد پندرہ سے زائد تھی۔ان میں سے کسی ایک کو اس بات کی جرات نہیں ہوئی کہ مناظرہ کرے بلکہ مناظرے کی بجائے انہوں نے جھگڑا کرناشروع کر دیا اور آپ تینوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن تعزیت پر آئے ہوئے دیگر لوگوں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔اپنی پڑھائی کے دوران حضرت ( مسیح موعود کا پیغام پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مکینیکل انجینئر نگ پڑھنے کے لئے امریکہ چلے گئے۔آخری سال کے دوران یہودیوں کے ایک فرقے سے عقائد پر بحث شروع ہو گئی۔ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی تو انہوں نے ، مخالف گروہ نے، پر نسپل کو جا کر کہا کہ اس کو کالج سے نکال دیں ورنہ ہم اس پر ایسا الزام لگائیں گے کہ یہ پڑھائی مکمل نہیں کر سکے گا۔بہر حال پھر پر نسپل کے کہنے پر مرحوم نے خود ہی اپنا کالج تبدیل کر لیا اور امریکہ چھوڑ کر پھر کینیڈا آ گئے۔آپ کی ساری توجہ کا مرکز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی کتب رہتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب آپ نے اپنی آواز میں پڑھ کر ریکارڈ کروائیں۔اردو زبان سیکھنے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی شعر کا عربی شعر میں ترجمہ بھی کرتے تھے۔اپنی عربی اور انگریزی زبان کی ساری صلاحیت تراجم کے کام میں صرف کی۔Five Volum English Commentary کی پہلی جلد کا عربی ترجمہ کرنے والی ٹیم میں بھی آپ شامل تھے۔اسلام کے مخالفین کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے استفادہ کرتے ہوئے آپ نے عربی زبان میں بعض کتب بھی لکھی ہیں جن میں سے ایک کتاب کا عنوان ہے رسول اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق سابقہ پیشنگوئیاں۔اسلامی کتب پر مشتمل ان کی ایک بڑی ذاتی لائبریری تھی جس کے بارے میں انہوں نے وصیت کر رکھی تھی کہ میری وفات کے بعد یہ جماعت کے حوالہ کر دی جائے۔عبد القادر عودے صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے جماعت کے متعلق بعض کتب بھی تحریر کیں۔پھر ان کتب کی ذاتی خرچ سے اشاعت بھی کروائی۔جماعت اور خلافت سے بہت محبت کرنے والے مخلص انسان تھے۔چندوں کی اہمیت بھی لوگوں پر واضح کیا کرتے تھے۔عبد الرزاق فراز صاحب مربی سلسلہ ہیں اور جامعہ کینیڈا کے استاد بھی ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ بڑے ہی صابر اور شاکر تھے۔آپ آخری چند سال اپنی بیماری کی وجہ سے خوراک منہ سے نہیں لے سکتے تھے بلکہ مشین کے ذریعہ سے معدے میں خوراک دی جاتی تھی۔آپ اس حالت میں بھی طبیعت بہتر ہونے پر سفر کر کے جمعہ کے لئے مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے۔سیریا میں حالات خراب ہونے پر جب عرب احمدی کینیڈا آئے تو آپ ان سے انتہائی پیار اور گرمجوشی سے ملتے اور جماعت کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین کرتے اور فرماتے تھے کہ اس ملک میں اپنی