خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 636
خطبات مسرور جلد 16 636 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 کہتے ہیں ان کی نمازوں کی پابندی ہم سب کے لئے ایک مثال تھی جس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔کہتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ اور بیٹا ٹورانٹو آئے اور خاکسار کو جماعتی انتظام کے تحت ان کی خدمت کرنے کی توفیق ملی۔ان کے کفن دفن میں مدد کی توفیق ملی۔ان کی اہلیہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے علاقے میں تین مساجد ہیں اور یہ سب مسلمانوں کی مسجد میں ہیں۔سب نے مجھ سے مرحوم کے جنازے وغیرہ کے بارے میں پوچھا لیکن میں نے انہیں جواب دیا، (یہ غیر احمدی ہیں ) کہ مرحوم کا جنازہ اسی مسجد سے اٹھے گا جہاں وہ نماز پڑھا کرتے تھے۔پھر یہ قزق صاحب کہتے ہیں کہ مرحوم کا تابوت قبر میں اتارا جار ہا تھا تو اپنے چا مکرم الحاج سامی قزق صاحب کی ایک بات یاد کر کے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔قزق صاحب کے چاجب فوت ہوئے تو کہتے ہیں کہ میں مرض الموت میں ان کے قریب تھا۔انہوں نے ایک دن روتے ہوئے مجھے کہا کہ سیدی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کو اطلاع کر دو کہ مجھے ان سے محبت ہے اور میں زندگی کے آخری دم تک خلافت کا وفادار رہوں گا۔میرا خیال ہے ان کی وفات غالباً خلافت ثالثہ میں ہوئی ہو گی۔بہر حال جب بھی تھی یہ ان کے الفاظ تھے۔مرحوم نادر صاحب کے بارے میں بھی قزق صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم نادر صاحب کے بارے میں بھی میر ایہی تاکثر ہے۔آپ بھی خلافت کے ساتھ بہت اخلاص اور وفا کا تعلق رکھتے تھے۔ایسے ہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے کہ من الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عَلَيْهِ - فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ - وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔(الاحزاب:24) اور پھر قزق صاحب یہ کہتے ہیں کہ مرحوم کی خلفاء کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ 1955ء میں سیریا تشریف لے گئے تو ان کو حضور کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا اور 3 مئی 1955ء میں سیریا کے احمدیوں کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ وہاں مجلس ہوئی۔کہتے ہیں اس مجلس میں حضرت مصلح موعودؓ نے اُن سے عربی میں ہی باتیں کیں اور اس تاریخی نشست کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ نشست جو ہے ، یہ مجلس جو آج جمی ہے یہ تاریخی ہے اس لئے کہ آج سے نصف صدی سے زائد عرصہ قبل جبکہ آپ حضرات میں سے کئی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی طرف وحی کی تھی کہ يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ وَ عِبَادُ اللهِ مِنَ الْعَرَبِ۔کہ ابدالِ شام اور عربوں میں سے اللہ کے نیک بندے تیرے لئے دعائیں کریں گے اور آج آپ کی موجودگی سے (حضرت مصلح موعودؓ ان سیرین (Syrian) احمدیوں کو کہہ رہے تھے کہ آج آپ کی موجودگی سے ) خدا کی یہ بات پوری ہو گئی۔اس سفر کے موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکرم نادر الحصنی کی بعض یاد گار تصویریں بھی ان کے پاس ہیں۔ان کے بھانجے عمار المسکی صاحب جو یہاں تبشیر میں ہیں۔لندن میں ہی رہتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ آپ کا حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ بہت قریبی تعلق تھا۔مرحوم نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک کتاب کا عربی ترجمہ بھی کیا تھا۔جماعت کے ساتھ آپ کا بہت مضبوط تعلق تھا۔حضرت مسیح موعود اور خلفاء کے بارے میں کوئی ناروا بات برداشت نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ کسی غیر احمدی کے ہاں تعزیت کے لئے گئے۔وہاں پر سیریا کے ایک معروف عالم شیخ البانی بھی