خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 635
خطبات مسرور جلد 16 635 جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 ہوں اور اس طرح ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو نادر الحصنی صاحب کینیڈا کا ہے جو 20 / دسمبر کو 85 سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔مرحوم ایک صالح، مخلص اور شریف النفس انسان تھے۔ان کی مالی قربانیاں بھی معیاری تھیں۔مرحوم موصی تھے۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور بیٹا ہیں جو احمدی نہیں ہیں۔آپ عبد الرؤوف الحصنی صاحب کے بیٹے تھے جنہوں نے 1938ء میں اپنے بھائی محترم منیر الحصنی صاحب کے بعد بیعت کی تھی۔عبد الرؤوف صاحب بھی پرہیز گار اور خاموش طبع اور تقویٰ شعار انسان تھے۔جب حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کا دورہ کیا تو عبد الرؤوف الحصنی صاحب کے گھر میں ایک رات کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔نادر الحصنی صاحب کے اندر بھی اپنے باپ کی خوبیاں موجود تھیں اور آپ نے بھی اخلاص و وفا میں اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔امیر صاحب کینیڈ لکھتے ہیں کہ مسجد بیت الاسلام کے بننے کے بعد سے ہر جمعہ کے لئے یہ چار گھنٹے ڈرائیو کر کے باقاعدگی سے مسجد پہنچتے تھے اور اسی روز واپس بھی اپنے گھر سد بری (Sudbury) چلے جاتے تھے۔آپ سے متعدد بار کہا گیا کہ نماز جمعہ کے بعد آرام کر کے اگلے روز واپس چلے جائیں لیکن آپ ہمیشہ اپنے مخصوص انداز میں کوئی نہ کوئی عذر کر دیتے تھے اور واپس چلے جاتے تھے تا کہ جماعت پر کسی قسم کا بوجھ نہ پڑے۔یہ طریق آپ نے اپنی آخری بیماری میں بھی جاری رکھا۔اور سالہا سال سے مسجد بیت الاسلام کے نماز جمعہ کے موذن بھی تھے۔اذان دینے کا بھی ان کا ایک منفرد انداز اور اسلوب تھا اور عجیب جذبہ رکھتے تھے جس سے سننے والوں پر بھی ایک خاص وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔مرحوم کی غیر احمدی اہلیہ شمیہ صاحبہ نے یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نادر الحصنی صاحب کو اپنی وسیع جنتوں میں جگہ دے۔وہ اپنے گھر والوں اور جماعت کے لئے بہت سچے اور سیدھے، صاف، دیانت دار اور مخلص انسان تھے۔ہر ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے اور اس سے بہت مشفقانہ سلوک کرتے۔ایک غیر احمدی غریب خاتون کی حسب استطاعت پوشیدہ مدد کیا کرتے تھے۔جب ہم اُس سے ملنے جاتے تو مرحوم نادر صاحب پہلے بازار جا کر اس کے لئے ضروری اشیاء خریدتے۔پھر ان کے گھر جاتے اور وفات سے قبل تک یہ سلسلہ جاری رہا۔کہتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا بیماری پر صبر کرنے والا انسان نہیں دیکھا۔ہر وقت الحمد للہ کے الفاظ زبان پر رہتے تھے۔خشیت اللہ سے لبریز دل کے ساتھ خدا تعالیٰ سے مناجات کرتے۔پنجوقتہ نماز اور تہجد پابندی سے ادا کرتے۔ان کا ہر جانے والا ان کے نیک مزاج کا معترف ہے۔معتز قزق صاحب کینیڈا سے لکھتے ہیں کہ سیریا میں قیام کے دوران نادر الحصنی صاحب کے بارے میں سنا حصنی فیملی جماعت کے ساتھ اپنے اخلاص اور خلافت سے وابستگی کے لئے معروف ہے۔کینیڈا پہنچنے کے بعد میری مکرم نادر الحصنی صاحب سے مسجد میں ملاقات ہوئی۔آپ بہت نیک طبع اور ہنس مکھ انسان تھے۔ان کے ساتھ گفتگو کے دوران میں اُن کی خلافت سے محبت اور مسجد میں دوستوں سے ملاقات کے شوق سے بہت متاثر ہوا۔