خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 634
خطبات مسرور جلد 16 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 حملہ کیا اور عکرمہ بن ابو جہل ان کے پیچھے پیچھے آیا۔یوں ان تینوں امور کو اگر ایک طرف سے دیکھا جائے تو پھر حضرت مصلح موعود کے اس حوالے میں بھی اور باقی تاریخ کی کتابوں میں بھی اس طرح مطابقت پیدا کی جاسکتی ہے کہ چونکہ مشرکین کے گھڑ سواروں کے نگران حضرت عمرو بن عاص تھے اس لئے یہ بھی ساتھ ہوں گے۔یعنی خالد بن ولید، عکرمہ اور عمر ابن العاص تینوں ساتھ ہوں گے۔اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پھر روایت میں کوئی اختلاف نہیں ہو تا۔حضرت عبد اللہ بن جبیر کی شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ جب خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابو جہل حملہ آور ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن جبیر نے تیر چلائے یہاں تک کہ آپ کے تیر ختم ہو گئے۔پھر آپ نے نیزے سے مقابلہ کیا حتی کہ آپ کا نیزہ بھی ٹوٹ گیا۔پھر آپ نے اپنی تلوار سے لڑائی کی یہاں تک کہ آپ شہید ہو کر گرے۔آپ کو عکرمہ بن ابو جہل نے شہید کیا۔جب آپ گر گئے تو دشمنوں نے آپ کو گھسیٹا اور آپ کی نعش کا بدترین مثلہ کیا۔آپ کے جسم کو نیزے سے اتنا چیرا کہ آپ کی انتڑیاں بھی باہر نکل آئیں۔حضرت خوات بن بجبیر کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جبیر کی جب یہ حالت ہوئی تو اس وقت مسلمان وہاں گھوم کر پہنچ گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔کہتے ہیں کہ میں اس مقام پر ہنسا جہاں کوئی نہیں ہنستا، ( اپنی حالت بیان کر رہے ہیں ) اور اس مقام پر اونگھا جہاں کوئی نہیں اونگھتا اور اس مقام پر میں نے بخل کیا جہاں کوئی بخل نہیں کرتا۔( یہ تینوں چیزیں ایسی حالت میں کسی انسان سے نہیں ہو سکتی۔ان سے کہا گیا کہ یہ کیا کیفیت ہے ؟ آپ نے یہ کیوں کیا؟ حضرت خوات نے کہا کہ میں نے دونوں بازوؤں سے اور ابو حنہ نے دونوں پاؤں سے پکڑ کر حضرت عبد اللہ کو اٹھایا۔میں نے اپنے عمامے سے ان کا زخم باندھ دیا۔جس وقت ہم انہیں اٹھائے ہوئے تھے مشرکین ایک طرف تھے۔میر اعمامہ ان کے زخموں سے کھل کر نیچے گر پڑا اور حضرت عبد اللہ بن جبیر کی آنتیں باہر نکل پڑیں۔میرا ساتھی گھبر ا گیا اور اس خیال سے کہ دشمن قریب ہے اپنے پیچھے دیکھنے لگا۔اس پر میں ہنس پڑا ( کہ یہ اس وقت کیا کر رہا ہے۔پھر ایک شخص اپنا نیزہ لے کر آگے بڑھا اور وہ اسے میرے حلق کے سامنے لا رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور نیزہ ہٹ گیا۔( یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ایک مدد ہوئی۔کہتے ہیں اونگھ کیوں آئی؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی اونگھ آگئی۔اس حالت میں میں کر تو کچھ سکتا نہیں تھا۔نیزہ میرے بالکل گلے کے قریب تھا لیکن پھر وہ نیزہ ہٹ گیا) اور جب میں حضرت عبد اللہ بن جبیر کے لئے قبر کھودنے لگا تو اس وقت میرے پاس میری کمان تھی۔چٹان ہمارے لئے سخت ہو گئی تو ہم اس کی نعش کو لے کر وادی میں اترے اور میں نے اپنی کمان کے کنارے کے ساتھ قبر کھودی۔کمان میں وتر بندھی ہوئی تھی۔میں نے کہا کہ میں اپنی و تر کو خراب نہیں کروں گا۔پھر میں نے اسے کھول دیا اور کمان کے کنارے سے قبر کھود کر حضرت عبد اللہ بن جبیر کو وہاں دفن کر دیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 362-363 عبد الله بن جبير مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت عبد اللہ بن بجبیر اور ان کے ساتھیوں کو وفا کے ساتھ اور حکم کی روح کو سمجھنے والا بنایا تھا ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اسی طرح حکم کو سمجھنے والے اور کامل اطاعت کرنے والے