خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 633

خطبات مسرور جلد 16 633 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی اور آپ کی ہدایت پر عمل کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد سے کام لینا شروع کر دیا۔اگر وہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسی طرح چلتے جس طرح نبض حرکت قلب کے پیچھے چلتی ہے۔اگر وہ سمجھتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کے نتیجہ میں اگر ساری دنیا کو بھی اپنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں تو وہ ایک بے حقیقت شے ہیں۔اگر وہ ذاتی اجتہاد سے کام لے کر اس پہاڑی درّہ کو نہ چھوڑتے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس ہدایت کے ساتھ کھڑا کیا تھا کہ خواہ ہم فتح حاصل کریں یا مارے جائیں تم نے اس مقام سے نہیں ہلنا تو نہ دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع ملتا اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو کوئی نقصان پہنچتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پوری اطاعت نہیں بجالاتے اور ذاتی اجتہادات کو آپ کے احکام پر مقدم سمجھتے ہیں۔" اپنی ذاتی تو جیہیں نکالتے ہیں یا خود ہی تشریحیں کرنے لگ جاتے ہیں یا حکموں کی تاویلیں کرنے لگ جاتے ہیں۔" انہیں ڈرنا چاہئے کہ اس کے نتیجہ میں کہیں اُن پر کوئی آفت نہ آجائے یا وہ کسی شدید عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔گویا بتایا کہ اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارا کام یہ ہے کہ تم ایک ہاتھ کے اٹھنے پر اٹھو اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جاؤ۔جب تک یہ روح زندہ رہے گی مسلمان بھی زندہ رہیں گے اور جس دن یہ روح مٹ جائے گی اس دن اسلام تو پھر بھی زندہ رہے گا مگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان لوگوں کا گلا گھونٹ کر رکھ دے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انحراف کرنے والے ہوں گے۔" ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 410 تا412) آج دیکھ لیں کہ یہی حال مسلمانوں کا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد ان سے اٹھ گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کہ آنے والے مسیح و مہدی کو مان لینا، اسے میر اسلام پہنچانا اور اسے حکم اور عدل سمجھنا ان سب باتوں کی تاویلیں اب یہ لوگ کرنے لگ گئے ہیں اور اس کا نتیجہ بھی یہ دیکھ لیں۔پس یہاں احمدیوں کے لئے بھی ایک سبق ہے، ایک تنبیہ ہے کہ مسیح موعود کو قبول کر کے پھر کامل اطاعت ہی کامیابیوں اور فتوحات کی ضمانت ہے۔پس ہر ایک کو اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک اس کے اطاعت کے معیار ہیں۔یہاں پہلے بیان ہوا تھا کہ ابوسفیان کے ساتھ عکرمہ بن ابو جہل تھے۔دوسرے ایک حوالے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دوسرے صحابی عمر و بن عاص کا ذکر کیا کہ انہوں نے دڑے پر حملہ کیا۔بعض دوسری روایات میں دوسرے نام بھی ہیں۔اس بارے میں ریسرچ سیل نے جو مزید تحقیق کی ہے وہاں بھی کتب سیرت میں خالد بن ولید کے ساتھ عکرمہ کے حملے کا ذکر ہی ملتا ہے۔(شرح زرقانی جلد 2 صفحه 412 غزوه احد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) لیکن یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ مشرکین نے اپنے لشکر کے گھڑ سواروں کو جن کی قیادت میں دیا تھا ان میں سے ایک عمرو بن عاص بھی تھے۔(تاريخ الخميس جلد 2 صفحه 191 غزوه احد دار الكتب العلميه بيروت 2009ء) تو اس ضمن میں یہ کہتے ہیں کہ خالد بن ولید نے پہاڑ کے دڑے پر خالی جگہ دیکھ کر گھڑ سواروں کے ساتھ