خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 632
خطبات مسرور جلد 16 632 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 لیں۔اُن کے افسر نے انہیں سمجھایا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خواہ فتح ہو یا شکست تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا۔اس لئے میں تمہیں جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ رسول کریم " ان کے باقی ساتھیوں نے یہ کہا کہ "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ خواہ فتح ہو جائے پھر بھی تم نے نہیں ہلنا۔آپ کا مقصد تو صرف تاکید کرنا تھا۔اب جبکہ فتح ہو چکی ہے ہمارا یہاں کیا کام ہے۔چنانچہ انہوں نے خدا کے رسول کے حکم پر "حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ انہوں نے خدا کے رسول کے حکم پر اپنی رائے کو فوقیت دیتے ہوئے اس درّہ کو چھوڑ دیا۔صرف اُن کا افسر اور چند سپاہی یعنی عبداللہ بن جبیر اور چند سپاہی " باقی رہ گئے۔جب کفار کا لشکر مکہ کی طرف بھاگتا چلا جارہا تھا تو اچانک خالد بن ولیڈ نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو درہ کو خالی پایا۔انہوں نے عمرو بن العاص کو آواز دی یہ دونوں ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اور کہا دیکھو کیسا اچھا موقعہ ہے آؤ ہم مڑ کر مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔چنانچہ دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دستوں کو سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔چند مسلمان جو وہاں موجود تھے اور جو دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ان کو انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اسلامی لشکر پر پشت پر سے حملہ کر دیا۔کفار کا یہ حملہ ایسا اچانک تھا کہ مسلمان جو فتح کی خوشی میں ادھر ادھر پھیل چکے تھے ان کے قدم جم نہ سکے۔صرف چند صحابہ دوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہیں تھی مگر یہ چند لوگ کب تک دشمن کا مقابلہ کر سکتے تھے۔آخر کفار کے ایک ریلے کی وجہ سے مسلمان سپاہی بھی پیچھے کی طرف دھکیلے گئے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تن تنہا رہ گئے۔اسی حالت میں آپ کے خود پر ایک پتھر لگا جس کی وجہ سے خود کے کیل آپ کے سر میں چجھ گئے اور آپ بیہوش ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔"جو کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ پھر ایک صحابی نے وہ کیل نکالے اور ان کے دانت بھی ٹوٹ گئے۔جو بعض شریروں نے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچانے کے لئے کھود کر ڈھانپ رکھے تھے۔" ایک گڑھا بنایا ہوا تھا اور اس پر گھاس پھوس رکھا ہوا تھا۔پتہ نہیں لگ رہا تھا یہ گڑھا ہے۔اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گرے۔اس کے بعد کچھ اور صحابہ شہید ہوئے اور ان کی لاشیں آپ کے جسم مبارک پر جاگریں اور لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔مگر وہ صحابہ "جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور انہوں نے آپ کو گڑھے میں سے باہر نکالا۔تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آگیا اور آپ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں اور آپ انہیں ساتھ لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔اسلامی لشکر کو کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد ایک عارضی شکست کا چر کہ اس لئے لگا کہ ان میں سے چند آدمیوں نے " اب یہ سننے والی بات ہے۔آپ اب نتیجہ نکال رہے ہیں کہ اسلامی لشکر کو کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد ایک عارضی شکست کا چر کہ اس لئے لگا۔اس لئے نقصان پہنچا کہ ان میں سے چند آدمیوں نے "رسول کریم صلی