خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 631
خطبات مسرور جلد 16 631 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 کوئی جواب نہ ملا تو ابو سفیان کو یقین ہو گیا کہ اُس کا خیال درست ہے اور اس نے بڑے زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کو بھی حکم فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔پھر ابوسفیان نے آواز دی ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔تب عمر جو بہت جو شیلے آدمی تھے انہوں نے اُس کے جواب میں یہ کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلہ کے لئے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔اب کفار کو یقین ہو گیا کہ اسلام کے بانی کو بھی اور ان کے دائیں بائیں بازو کو کبھی ہم نے مار دیا ہے۔اس پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اُغلُ هُبل۔اغلُ هُبل۔ہمارے معزز بت ہبل کی شان بلند ہو کہ اس نے آج اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔۔۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی موت کے اعلان پر ، ابو بکر کی موت کے اعلان پر اور عمر کی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرمارہے تھے تا ایسا نہ ہو کہ زخمی مسلمانوں پر پھر کفار کا لشکر لوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان اس کے ہاتھوں شہید ہو جائیں۔اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں مارا گیا تو آپ کی روح بیتاب ہو گئی اور آپ نے نہایت جوش سے صحابہ کی طرف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں ؟ فرمایا کہو اللهُ أَعْلَى وَاجَلُّ اللَّهُ أَعْلَى وَاجَلٌ۔تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی۔اللہ وحدہ لاشریک ہی معزز ہے اور اس کی شان بالا ہے۔اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچادی۔" فرماتے ہیں کہ " اس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑا کہ باوجود اس کے کہ ان کی امیدیں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ ان کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن پر حملہ کر کے ان کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا لیکن اس نعرے کو سن کے ، یہ جوش دیکھ کر " وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جس قدر فتح ان کو نصیب ہوئی تھی اُسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے۔" " (دیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد 20 صفحہ 252-253) حضرت مصلح موعود مزید فرماتے ہیں ایک آیت کی تشریح میں کہ : فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔یعنی جو لوگ اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت نہ پہنچ جائے یا وہ کسی دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں چنانچہ دیکھ لو" آپ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو کہ "جنگ احد میں اس حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے اسلامی لشکر کو کتنا نقصان پہنچا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر فرمائے تھے اور یہ درہ اتنا اہم تھا کہ آپ نے اُن کے افسر عبد اللہ بن جبیر انصاری کو بلا کر فرمایا کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا۔مگر جب کفار کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کر دیا تو اس درہ پر جو سپاہی مقرر تھے انہوں نے اپنے افسر سے کہا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے۔اب ہمارا یہاں ٹھہرنا بے کار ہے۔ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی جہاد میں شامل ہونے کا ثواب لے