خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد 16 55 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 اس کی کوئی حد نہیں ہے۔کیونکہ اس کے پاس طاقت ہے۔وہ سب کچھ عطا کر سکتا ہے۔کیونکہ اس کے خزانے لا محدود ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری ان صفات کو یادر کھو تو ہمیشہ تم فیض پاتے رہو گے جس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے جو اتنی طاقت رکھتا ہو۔اور ہم نے اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اُسی کی طرف جانا ہے۔پس جب یہ احساس رہے گا کہ آخر کار کو شناخدا تعالیٰ کی طرف ہے تو پھر نیکیاں کرنے اور اس کے حکموں پر چلنے کی طرف توجہ رہے گی اور جب یہ حالت ہو پھر خدا تعالیٰ یقیناً حفاظت فرماتا ہے۔آیة الکرسی کی فضیلت: پھر دوسری آیت ہے جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اس طرح بھی توجہ دلائی ہے جو آیتہ الکرسی کے بارے میں ہے۔حدیث میں ذکر ملتا ہے یہ حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک کو ہان ہوتا ہے اور قرآن کریم کا کوہان سورۃ بقرہ ہے۔اور اس میں ایک ایسی آیت ہے جو قرآن کریم کی سب آیتوں کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔(سنن الترمذی ابواب فضائل القرآن باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الكرسي حديث 2878) اس کی وضاحت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: " اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔(البقرة : 256) یعنی وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔اس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے۔پس جبکہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوازندہ نظر آتا ہے وہ اسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جو زمین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے۔" (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحه 120) پھر مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ " جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دونام پیش کئے ہیں۔آنحی اور الْقَيُّومُ الْحَیٰ کے معنی ہیں خود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطا کرنے والا۔الْقَيُّومُ۔خود قائم اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری، باطنی قیام اور زندگی انہی دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔" یہ غور طلب ہے۔" حتی کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔جیسا کہ اس کا مظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور الْقَيُّومُ چاہتا ہے کہ اس سے سہارا طلب کیا جاوے۔اس کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔"زندہ رہنا ہے۔روحانی طور پر بھی زندہ رہنا ہے اور کی صفت سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس کی عبادت کرناضروری ہے اور عبادت کے لئے مدد بھی اس سے مانگنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم عبادت کرنے والے ہوں۔فرمایا کہ " حسن کا لفظ عبادت کو اس لئے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا اور پھر پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا۔جیسے مثلاً معمار جس نے عمارت کو بنایا ہے اس کے مرجانے سے عمارت کا کوئی حرج نہیں ہے۔" ایک شخص ہے جس نے کوئی بلڈنگ تعمیر کی ہے۔اس کے مر جانے سے اس بلڈ نگ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔"مگر انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے۔انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے