خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 630 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 630

خطبات مسرور جلد 16 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 صلی اللہ علیہ وسلم ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔کافروں کی جو شکست تھی وہ جب فتح میں بدل گئی ہے اور انہوں نے دوبارہ حملہ کر کے درے سے مسلمانوں کو زیر کر لیا۔تب اس نے کہا کہ کیا تم میں محمد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا کیا لوگوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے یعنی حضرت ابو بکر ہیں ؟ پھر تین بار پوچھا کیا ان لوگوں میں ابن خطاب ہے یعنی حضرت عمر کے بارے میں پوچھا؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دفعہ پوچھنے پر یہی فرمایا تھا کہ جواب نہیں دینا۔پھر کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا کہ یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔یہ تین ان کے لیڈر ہو سکتے تھے یہ تینوں تو مارے گئے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے اے اللہ کے دشمن! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ابوسفیان بولا یہ معرکہ بدر کے معرکے کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے کبھی اس کی فتح اور کبھی اس کی فتح۔تم ان لوگوں میں سے کچھ ایسے مردے پاؤ گے جن کے ناک کان کاٹے گئے ہیں یعنی مثلہ کیا گیا ہے۔اُس نے کہا کہ میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور میں نے اسے برا بھی نہیں سمجھا۔پھر اس کے بعد وہ یہ رجزیہ فقرہ پڑھنے لگا۔اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبل - مبل کی بے ، ھبل کی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اب اسے جواب نہیں دو گے ؟ صحابہ نے کہا یار سول اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا تم کہو الله اغلی وَأَجَلُ۔اللہ ہی سب سے بلند اور بڑی شان والا ہے۔پھر ابوسفیان نے کہا کہ عربی نامی بت ہمارا ہے اور تمہارا کوئی غربی نہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا تم اسے جواب نہیں دو گے۔حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا کہو اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلى لَكُمْ کہ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد والسير باب ما يكره من التنازع والاختلاف في الحرب۔۔۔حدیث نمبر (3039) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس واقعہ پر کافی تفصیلی بحث کی ہے۔اور غزوہ احد پر روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ "وہ صحابہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تھے اور جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دیئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔آپ کے جسم مبارک کو انہوں نے اٹھایا اور ایک صحابی عبیدہ بن الجراح نے اپنے دانتوں سے آپ کے سر میں ہوئی کیل کو زور سے نکالا جس سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آگیا اور صحابہ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں۔بھاگا ہوالشکر پھر جمع ہونا شروع ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔جب دامن کوہ میں بچا کھچا لشکر کھڑ ا تھا تو ابوسفیان نے بڑے زور سے آواز دی اور کہا ہم نے محمد (صلی ییم ) کو مار دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی بات کا جواب نہ دیا تا ایسانہ ہو دشمن حقیقت حال سے واقف ہو کر حملہ کر دے۔کیونکہ مسلمان ابھی کمزور حالت میں تھے " اور زخمی مسلمان پھر دوبارہ دشمن کے حملہ کا شکار ہو جائیں۔جب اسلامی لشکر سے اس بات کا