خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 629 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 629

خطبات مسرور جلد 16 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 تفصیل تو عبد اللہ بن حمیر کے واقعہ میں بیان ہو گئی ہے اور کچھ مزید یہ ہے جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ہی لکھی ہے کہ: " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اُحد کے دامن میں ڈیرہ ڈال دیا ایسے طریق پر کہ اُحد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آگئی اور مدینہ گویا سامنے رہا اور اس طرح آپ نے لشکر کا عقب محفوظ کر لیا۔آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ عبد اللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیر اند از صحابی وہاں متعین فرما دیئے اور ان کو تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہو جاوے وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں اور دشمن پر تیر برساتے جائیں۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 487) جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس درے کی حفاظت کا اس قدر خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن بجبیر سے یہ تکرار سے فرمایا کہ دیکھو یہ وہ کسی صورت میں خالی نہ رہے اور اگر فتح بھی ہو جائے، دشمن پسپا ہو کر دوڑ جائے تب بھی تم نے جگہ نہیں چھوڑنی اور مسلمانوں کو اگر شکست ہو جائے اور دشمن ہم پہ غالب آجائیں تب بھی تم نے نہیں چھوڑنی۔حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبد اللہ بن جبیر کو مقرر فرمایا اور یہ پچاس آدمی تھے اور ان سے فرمایا کہ اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا خواہ دیکھو کہ پرندے ہم پر جھپٹ رہے ہیں۔اپنی جگہ پر رہنا تا وقتیکہ میں تمہیں نہ بلا بھیجوں اور اگر تم ہمیں اس حالت میں بھی دیکھو کہ لوگوں کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں ہم نے روند ڈالا ہے تب بھی یہاں سے نہ سر کنا جب تک کہ میں تمہیں نہ کہلا بھیجوں۔چنانچہ مسلمانوں نے ان کو شکست دے کر بھگا دیا۔حضرت براء کہتے تھے کہ بخدا میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں اور وہ اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے تھیں۔(اس زمانے میں فوجوں کے ساتھ عور تیں بھی ان کے جذبات ابھارنے کے لئے جایا کرتی تھیں۔ان کی پازیبہیں اور پنڈلیاں جنگی ہو رہی تھیں۔حضرت عبد اللہ بن بجبیر کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ لوگو! چلو غنیمت حاصل کریں۔تمہارے ساتھی غالب ہو گئے تم کیا انتظار کر رہے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن بجبیر نے کہا کیا تم وہ بات بھول گئے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی؟ انہوں نے یعنی ان لوگوں نے جو جگہ چھوڑنا چاہتے تھے کہا کہ بخد اضرور ہم بھی ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت کا مال لیں گے۔یہ باقی وہاں غنیمت کا مال لے رہے ہیں تو ہم بھی جائیں گے۔جب وہ وہاں پہنچے تو ان کے منہ پھیر دئے گئے اور شکست کھا کر بھاگتے ہوئے لوٹے یعنی پھر دشمن نے حملہ کیا اور یہ جو فتح ہے وہ الٹی پڑ گئی۔حضرت براء لکھتے ہیں کہ یہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جبکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں کھڑا تمہیں بلا رہا تھا۔آل عمران کی آیت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی نہ رہا اور کافروں نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کئے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے 140 آدمیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ستر قیدی اور ستر مقتول۔ابوسفیان نے تین بار پکار کر کہا، یہ سارا واقعہ جنگ اُحد کا ہی بیان ہو رہا ہے ) کہ کیا ان لوگوں میں محمد