خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 628 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 628

خطبات مسرور جلد 16 628 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ لَقَد أَعَانَكَ عَلَيْهِمْ مَلَكَ كَرِيمٌ۔کہ یقینا اس معاملہ میں ایک معزز فرشتے نے تمہاری مدد کی ہے۔اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مقرن کا لقب عطا فرمایا یعنی زنجیر میں جکڑنے والا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 528-529 عبید بن اوش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عباس کو غزوہ بدر میں قیدی بنانے والے حضرت ابو الیسر کعب بن عمر و تھے۔(اسد الغابه جلد 6 صفحه 326-327 ابو السير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت عبید بن اوس نے حضرت امیمہ بنت النعمان سے شادی کی۔حضرت امیمہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کی بیعت سے فیضیاب ہوئیں۔الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 257 اميمه بنت النعمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اب ذکر حضرت عبد اللہ بن جبیر کا ہے جن کا ذکر پہلے، ایک اور صحابی کے ذکر میں آچکا ہے۔آپ ان ستر انصار میں سے تھے جو بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے اور آپ غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے اور غزوہ اُحد میں آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 362 عبد الله بن جُبَيرٌ مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابو العاص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کے شوہر تھے جنگ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے تھے اور حضرت عبد اللہ بن جبیر نے انہیں قید کیا تھا۔(المستدرك على الصحيحين كتاب معرفة الصحابه ذكر مناقب ابی العاص بن ربیع حديث 5037 جلد 3 صفحه 262 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا ہے کہ: آنحضرت کے داماد ابو العاص بھی اسیران بدر میں سے تھے ان کے فدیہ میں ان کی زوجہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب نے جو ابھی تک مکہ میں تھیں کچھ چیزیں بھیجیں۔اُن میں اُن کا ایک ہار بھی تھا۔یہ ہار وہ تھا جو حضرت خدیجہ نے جہیز میں اپنی لڑکی زینب کو دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو مرحومہ خدیجہ کی یاد دل میں تازہ ہو گئی اور آپؐ چشم پر آب ہو گئے اور صحابہ سے فرمایا اگر تم پسند کرو تو زینب کا مال اسے واپس کر دو۔صحابہ کو اشارہ کی دیر تھی زینب کا مال فور اواپس کر دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقد فدیہ کے قائمقام ابو العاص کے ساتھ یہ شرط مقرر کی کہ وہ مکہ میں جاکر زینب کو مدینہ بھجوا دیں اور اس طرح ایک موسمن روح دار کفر سے نجات پاگئی۔کچھ عرصہ بعد ابو العاص بھی مسلمان ہو کر مدینہ میں ہجرت کر آئے اور اس طرح خاوند بیوی پھر اکٹھے ہو گئے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 368) غزوہ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جبیر کو ان پچاس تیر اندازوں کے دستے کا سالار مقرر فرمایا جسے آپ نے مسلمانوں کے عقب میں واقع درے کی حفاظت کے لئے مقرر فرمایا تھا۔باقی