خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 627
خطبات مسرور جلد 16 627 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 دسمبر 2018 تیر برسائے یہاں تک کہ وہ ان تک پہنچ گئے اور آن کی آن میں ان سب کو شہید کر دیا۔(امتاع الاسماع جلد 9 صفحه 229 فصل في ذكر من استعله رسول الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) احد کے اس واقعہ کی مزید تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھی ہے۔کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور احد کے دامن میں ڈیرہ ڈال دیا۔ایسے طریق پر کہ احد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آگئی اور مدینہ گویا سامنے رہا اور اس طرح آپ نے لشکر کا عقب محفوظ کر لیا۔عقب کی پہاڑی میں ایک درہ تھا جہاں سے حملہ ہو سکتا تھا۔اُس کی حفاظت کا آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ عبد اللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیر اند از صحابی وہاں متعین فرما دیے اور ان کو تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہو جاوے وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں اور دشمن پر تیر برساتے جائیں۔آپ کو اس دڑہ کی حفاظت کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے عبد اللہ بن جبیر سے بہ تکرار فرمایا " یعنی بار بار فرمایا کہ دیکھو یہ درہ کسی صورت میں خالی نہ رہے۔حتی کہ اگر تم دیکھو کہ ہمیں فتح ہو گئی ہے اور دشمن پسپا ہو کر بھاگ نکلا ہے، تو پھر بھی تم اس جگہ کو نہ چھوڑنا اور اگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے اور دشمن ہم پر غالب آگیا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا حتی کہ ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ "اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں تو پھر بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا حتی کہ تمہیں یہاں سے ہٹ آنے کا حکم جاوے۔یعنی آپ کی طرف سے حکم جائے۔" اس طرح اپنے عقب کو پوری طرح مضبوط کر کے آپ نے لشکر اسلامی کی صف بندی کی اور مختلف دستوں کے جدا جدا امیر مقرر فرمائے۔۔جب عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے تو انہوں نے اپنے امیر عبد اللہ سے کہا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے اور مسلمان غنیمت کا مال جمع کر رہے ہیں آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم بھی لشکر کے ساتھ جاکر شامل ہو جائیں۔عبد اللہ نے انہیں روکا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدی ہدایت یاد دلائی مگر وہ فتح کی خوشی میں غافل ہو رہے تھے ، اس لئے وہ باز نہ آئے۔اور یہ کہتے ہوئے نیچے اتر گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ مطلب تھا کہ جب تک پورا اطمینان نہ ہولے دڑہ خالی نہ چھوڑا جاوے اور اب چونکہ فتح ہو چکی ہے اس لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور سوائے عبداللہ بن جبیر اور ان کے پانچ سات ساتھیوں کے دڑہ کی حفاظت کے لئے کوئی نہ رہا۔خالد بن ولید کی تیز آنکھ نے دور سے درّہ کی طرف دیکھا تو میدان صاف پایا جس پر اس نے اپنے سواروں کو جلدی جلدی جمع کر کے فوراً درّہ کا رخ کیا اور اس کے پیچھے پیچھے عکرمہ بن ابو جہل بھی رہے سہے دستہ کو ساتھ لے کر تیزی کے ساتھ وہاں پہنچا اور یہ دونوں دستے عبد اللہ بن بجبیر اور ان کے چند ساتھیوں کو ایک آن کی آن میں شہید کر کے اسلامی لشکر کے عقب میں اچانک حملہ آور ہو گئے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 487,491-488) اگلا ذکر حضرت عبید بن اوس انصاری کا ہے۔ولدیت اوس بن مالک۔حضرت عبید بن اوس نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور آپ نے غزوہ بدر میں حضرت عقیل بن ابو طالب کو قیدی بنایا۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ آپ نے حضرت عباس اور حضرت کو فل کو بھی قیدی بنایا۔جب آپ ان تینوں کو رسی سے باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ